خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 351 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 351

خطبات مسرور جلد ششم 351 خطبه جمعه فرمود و 29 اگست 2008 پس یہ جو آواز ہم لگا رہے ہیں ، دے رہے ہیں یہ آواز کوئی منفرد چیز ہے جس کی طرف توجہ پھرانے کی احمدی کوشش کرتا ہے۔اگر عام چیز ہو تو توجہ پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔کوئی منفرد آواز ہونی چاہئے۔پس توجہ دینے کے لئے اپنی حالت کو بھی قابل توجہ بنانے کی ضرورت ہے اور یہ حالت عملی نمونہ سے پیدا ہوتی ہے۔اور جب بھی ایک آواز دینے والا آواز دے تو اپنے نمونے بھی قائم کرے۔اور جب نیک اور سعید فطرت کی اس طرف توجہ پیدا ہوگی تو اس کے لئے اس آواز میں شامل ہوئے بغیر چارہ نہیں ہوگا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونا ہی اس کے لئے سکون کا باعث بنے گا اور انہی جذبات کا اظہار احمدیت میں شامل ہونے والا ہر نیا احمدی کرتا ہے ، جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا۔اس سال خلافت احمدیہ کے سو سال پورے ہونے کی وجہ سے باقی جلسوں کی طرح جرمنی کے جلسہ کا بھی ایک ذرا مختلف انداز اور شان تھی۔حاضری زیادہ اور اسی وجہ سے انتظامات وسیع تھے اور کارکنان نے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وسیع انتظام کو خوب سنبھالا تھا۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ملک میں کارکنان کی اس قدرٹرینگ ہو چکی ہے کہ انتظامات کی وسعت ان میں کوئی گھبراہٹ پیدا نہیں کرتی۔لیکن ان مغربی ممالک میں جب انتظامات میں وسعت پیدا ہوتی ہے تو سرکاری محکمے زیادہ متوجہ ہو جاتے ہیں۔سو جرمنی میں بھی یہی ہوا۔ہائی جین (Hygiene) والوں کا ایک محکمہ ہے جو صفائی ستھرائی کا انتظام دیکھتا ہے۔انہوں نے گزشتہ سال بھی کچھ پختی کی تھی لیکن اس دفعہ صفائی ستھرائی اور کھانے وغیرہ پر اس محکمہ کی خاص نظر تھی اور لنگر خانہ جہاں کھانا پکتا ہے اس پہ چھوٹی چھوٹی بات پر اعتراض لگتے رہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے کارکنان نے ہر طرح سے کوشش کر کے مطلوبہ معیار حاصل کرنے کی طرف توجہ رکھی اور کسی بڑے اعتراض کا بظاہر موقع نہیں ملا۔بعد میں کیا ہوا یہ تو اب پتہ لگے گا۔بہر حال اللہ کا شکر ہے کہ جلسہ خیریت سے گزر گیا اور کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔اللہ تعالی آئندہ بھی ان کو ہر پریشانی سے محفوظ رکھے۔گزشتہ سال دیگیں دھونے کی جس مشین کا میں نے وہاں اپنے جرمنی کے خطبہ میں بھی ذکر کیا تھا۔یہ تین بھائی ہیں جنہوں نے مشین بنائی تھی ، پہلے دو تھے اب ان میں تیسرا شامل ہو گیا ہے، اس مشین کو مکمل آٹو میٹک بنا دیا اور حیرانی والی بات یہ ہے کہ ان بھائیوں میں سے کوئی بھی انجینئر نہیں ہے۔ایک شاید بیالوجی میں ڈگری کر کے اب آگے پڑھ رہا ہے دوسرا بھی کسی ایسے مضمون میں پی ایچ ڈی کر رہا ہے اور تیسرا بھائی سیکنڈری سکول میں پڑھتا ہے۔تو اگر گن کچی ہو تو پڑھائی یا کسی بھی قسم کا مضمون جماعت کی خدمت میں روک نہیں بن سکتا۔بہر حال اب اس مشین کو انہوں نے آٹو میٹک کر لیا اور اب آٹو میٹک اس طرح کیا ہے کہ گندی دیگ ایک بیلٹ پر رکھی جاتی ہے اور یہ بیلٹ دیگ کو مشین کے اندر خود لے جاتی ہے جہاں مکمل کمپیوٹرائزڈ نظام ہے اور اس کے تحت صابن اور گرم پانی مطلوبہ مقدار میں دیگ کے اندر پھینکا جاتا ہے، ساتھ ہی مختلف قسم کے برش مشین کے اندر اور باہر اس کو دھونے لگ جاتے ہیں بلکہ مشین میں