خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 349
349 خطبه جمعه فرموده 29 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم اور وہ اپنی مرضی کی باتیں ان کو بتاتے ہیں۔حکومت نے ایک کونسل بنائی ہوئی ہے جس کو وہ کونسل سرٹیفیکیٹ دے دے یا جو ان کا لیڈر کہے کہ یہ صحیح مسلمان ہیں یا یہ صحیح مسلمانوں کی تنظیم ہے وہی اپنی ایکیٹویٹی (activity) اس ملک میں جاری رکھ سکتی ہے۔تو بہر حال اس کے لئے تو جماعت کوشش کر رہی ہے مقدمے بھی ہوئے آئندہ دیکھیں اللہ کرے، اللہ مددفرمائے اور جماعت وہاں رجسٹر ڈ ہو جائے۔بلغاریہ سے ایک بہت بڑا وفد آیا ہوا تھا جس میں کافی تعداد غیر از جماعت مسلمانوں کی بھی تھی اور کچھ ان میں غیر مسلم بھی تھے، سب نے بر ملا اس بات کا اظہار کیا کہ یہاں آ کر ہمیں پتہ چلا ہے کہ حقیقی اسلام کا تصور جماعت احمد یہ ہی پیش کرتی ہے۔اور اب ہم واپس جا کر اپنے اپنے حلقہ میں اپنے اپنے سفر کے تاثرات بیان کریں گے تو یہ بات بھی بتا ئیں گے۔بلکہ میں نے انہیں کہا کہ ملاں کے اس غلط تصور کو دور کریں اور اب انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جو آپ لوگوں نے دیکھا ہے، جو محسوس کیا ہے، جو سنا ہے اسے اپنے اپنے حلقہ میں جا کر بتا ئیں اور ضرور بتائیں۔بعض نے اس بات کا اظہار کیا کہ جماعت کا لٹریچر زیادہ سے زیادہ بلغاریہ میں تقسیم ہونا چاہئے۔لٹریچر تو بہر حال بلغارین زبان میں ہے اگر چہ کچھ پابندیاں اور کچھ شرطیں ہیں لیکن جب میں نے پتہ کیا تو مجھے بتایا گیا کہ فلاں فلاں لٹریچر موجود ہے تو میں نے جو یہاں کے مربی صاحب تھے، مشنری تھے ان کو کہا کہ جو موجودلوگ ہیں ان کو فوری طور پر مہیا کر دیں۔کیونکہ ان کو بھی جماعت کے بارہ میں بہت معمولی علم تھا۔اللہ کرے کہ وہاں جماعت جلد تر آزادی کے ساتھ قائم ہو جائے اور اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو کامیاب فرمائے۔جماعت تو وہاں ہے جیسا کہ میں نے کہا لیکن حکومت نے رجسٹریشن کینسل کر دی تھی۔بلغاریہ میں جتنے بھی احمدی ہوئے ہیں، کافی بڑی تعداد ہے۔اخلاص میں بڑے بڑھے ہوئے ہیں اور جذباتی رنگ رکھنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ جسے بھی احمدیت قبول کرنے کی توفیق دیتا ہے اس کے دل میں اخلاص و وفا بھی اتنا بھر دیتا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی تائید کے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہونے کے وعدے کے اظہار ہیں۔پھر جرمن احمدی مردوں اور عورتوں سے جلسے کے آخری دن ملاقات ہوئی۔گزشتہ سال تو صرف عورتوں کے ساتھ ملاقات کا پروگرام ہوا تھا۔اس سال امیر صاحب نے کہہ کر مردوں کے ساتھ بھی ایک پروگرام رکھا۔پہلے عورتوں کی ملاقات میں ایک عورت نے کہا کہ وہ ابھی بیعت کرنا چاہتی ہے۔27-28 سال کی نوجوان لڑکی تھی اور وہ کافی حد تک پہلے جماعت کے بارہ میں معلومات حاصل کر چکی تھی لیکن بیعت نہیں کر رہی تھی۔اس ملاقات کے دوران ہی اس نے کہا کہ میں جلسہ سے متاثر ہوئی ہوں اور کافی عرصے سے جماعت سے رابطہ ہے جو تھوڑے بہت شکوک و شبہات تھے وہ اب دور ہو گئے ہیں۔اس لئے میں آج ابھی فوری طور پر بیعت کرنا چاہتی ہوں۔اسی طرح