خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 347 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 347

347 خطبه جمعه فرمود و 29 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم بڑھا رہی ہے۔بعض احمدی لوگ یعنی جو بڑی عمر کے احمدی ہیں، وہ نو جوانوں کو بڑی تنقید کی نظر سے دیکھتے تھے۔خود کئیوں نے میرے سامنے بیان کیا ہے کہ جرمنی میں نوجوانوں میں نمازوں کی طرف توجہ اور اخلاص میں قدم واضح طور پر بہتری کی طرف بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔پس یہی باتیں ہیں جن کا اگر ہمارے نوجوان خیال رکھتے رہے تو اپنی دنیا و عاقبت بھی سنوارنے والے ہوں گے اور جماعت کے لئے بھی مفید وجود بنیں گے۔اللہ کرے کہ یہ اس میں ترقی کرتے چلے جائیں۔جیسا کہ دنیائے احمدیت نے ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دیکھا اور سن لیا کہ جلسہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر قسم کی برکات پھیلاتا ہوا اپنے اختتام کو پہنچا تھا اور حاضری بھی اس دفعہ جرمنی کے لحاظ سے ریکارڈ حاضری تھی ، یعنی 37 ہزار سے اوپر۔میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ میں نے 32-33 ہزار کا اندازہ لگایا تھا اور بڑی چھلانگ لگائی تھی اور یہی مقا می انتظامیہ کا اندازہ ہو گا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا اور یہ احمدیوں کے خلافت کے ساتھ پختہ تعلق کا اور اللہ تعالیٰ کی تائید کا ایک ثبوت ہے۔دشمن جس چیز کوختم کرنے کے درپے تھا وہ مزید صیقل ہو کر ہر جگہ سامنے آ رہی ہے۔اب بھی اگر دنیا داروں اور عقل کے اندھوں کو سمجھ نہ آئے تو کیا کیا جاسکتا ہے۔ہم تو دنیا کی راستی کے لئے دعا کر سکتے ہیں اور وہ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں عقل اور سمجھ دے۔بہر حال اتنی بڑی تعداد کے آنے کے باوجود وہاں کے انتظامات عمومی طور پر بہت اچھے تھے۔پھر جلسہ کے پروگرام تھے۔اس سال کی اہمیت کی نسبت سے وہ بھی بڑے اچھے پروگرام تھے۔مقررین کی تقاریر کی تیاری بھی یعنی مواد کے لحاظ سے اور اس کا جو انہوں نے بیان کیا وہ بھی بڑی اچھی طرح کیا۔ہر طرح سے بڑا بہترین تھا اور یہی اکثر کا تاثر ہے جن سے بھی میں نے پوچھا ہے۔اور پھر جلسہ میں شامل ہونے والوں نے ان تقریروں کو سنا بھی بڑے غور سے ہے۔اکثر کا جلسہ کے دوران مکمل انہماک نظر آتا تھا۔وقتا فوقتا میں ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دیکھتا رہتا تھا۔عمومی طور پر وہاں بیٹھے ہوؤں کی حاضری بھی اچھی ہوتی تھی اور سن بھی بڑے غور سے رہے ہوتے تھے۔جیسا کہ میں نے کہا اس سال کیونکہ خلافت کے 100 سال پورے ہونے کے حوالے سے خلافت کے موضوع پر تقاریر تھیں اس لئے جہاں سننے والوں کی توجہ نظر آتی تھی وہاں ان کے چہروں پر اخلاص و وفا بھی چھلکتا ہوا نظر آتا تھا۔عموماًمیں نے دیکھا ہے کہ میری تقریروں کے علاوہ جلسوں میں حاضری اس قدر نہیں ہوتی جس قدر اس دفعہ نظر آئی ہے۔اللہ تعالیٰ سننے والوں کے اخلاص و وفا میں بھی مزید ترقی دے اور نہ صرف وہ لوگ جو جلسے میں موجود تھے ان کے بلکہ تمام دنیائے احمدیت کے ہر احمدی کے اخلاص و وفا کو اللہ تعالیٰ بڑھاتا چلا جائے۔جرمنی میں میرے جلسہ کے جو عموماً پروگرام ہوتے ہیں ان میں گزشتہ سالوں کی نسبت ایک زائد کام بھی تھا اور وہ جرمنی اور دوسرے ہمسایہ ممالک سے آئے ہوئے غیر مسلم لوگوں کے ساتھ جن میں اکثریت جرمنوں کی تھی،