خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 346 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 346

خطبات مسرور جلد ششم 346 (35) خطبه جمعه فرموده 29 اگست 2008 فرموده مورخہ 29 اگست 2008ء بمطابق 29 رظہور 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو دن پہلے میری جرمنی کے سفر سے واپسی ہوئی ہے۔گزشتہ اتوار کو جیسا کہ سب جانتے ہیں جرمنی کا جلسہ سالانہ تھا۔آج میرا خیال کچھ اور مضمون بیان کرنے کا تھا، نوٹس بنانے لگا تو خیال آیا کہ روایت کے مطابق جلسہ کے بارہ میں جس میں میں شامل ہوتا ہوں یا اس ملک کی جماعت کے بارے میں جہاں دورے پہ جاتا ہوں عموماً میں بیان کیا کرتا ہوں۔اس لئے آج جرمنی کے جلسے کے بارہ میں ہی میں کچھ کہنا چاہوں گا اور اس لئے بھی ضروری ہے کہ جو کارکنان کام کر رہے ہوتے ہیں ان کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔یہی ایک مومن سے توقع کی جاتی ہے۔نیز اس لئے بھی ضروری تھا کہ اگر میں اپنی روایت کے مطابق ذکر نہ کروں تو جرمنی والے کہیں پریشان نہ ہو جائیں کہ کہیں دوبارہ کوئی ناراضگی نہ ہو گئی ہو۔یہ جلسہ جس کا اجراء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تا کہ احمدیوں کی دینی ، اخلاقی اور روحانی حالت کو بہتر بنایا جائے ، تربیت کے بہتر سامان پیدا کئے جائیں ، اب تمام دنیا کی جماعتوں کے جو پروگرام ہیں یہ جلسہ اُن کے پروگراموں کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔اور اس سال تو جیسا کہ میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ خلافت جو بلی کے حوالے سے اس سال کے جلسوں کو خاص اہمیت حاصل ہو گئی ہے اور اگر جرمنی کے اس سال کے جلسے کے بارہ میں مختصراً کچھ نہ بتاؤں تو فوراً وہاں سے خطوط کا سلسلہ شروع ہو جائے گا کہ کیا وجہ ہے آپ جلسہ کے اختتام پر عموماً تا ثرات بیان کیا کرتے ہیں اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں وہ نہیں کیا۔جرمنی کی جماعت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص و وفا میں بڑھنے والی جماعت ہے اور اگر ان کو اس طرح کا شکوہ ہو تو بڑا جائز شکوہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق اخلاص و وفا میں بڑھنے والے عجیب پیارے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمان آج بھی بڑی شان سے پورا ہو رہا ہے کہ جماعت نے اخلاص و محبت میں بڑی نمایاں ترقی کی ہے۔پس آج جس طرح میں دنیا کے دوسرے ممالک میں بسنے والے بعض احمدیوں کے اخلاص و وفا میں ترقی دیکھتا ہوں اسی طرح جرمنی کی جماعت بھی اس میں قدم آگے