خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 345
345 خطبه جمعه فرمود ه 22 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق جو انشاء اللہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ہم میں سے ہر احمدی اس سے فیض پانے والا ہوا اور ان دنوں میں اس کے حصول کے لئے کوشش کرنے والا دعائیں کرنے والا ہو۔شروع میں میں نے گھانا کے جلسہ کی مثال دی تھی۔اس حوالے سے میں خواتین سے بھی خاص طور پر کہنا چاہوں گا کہ گزشتہ سال میں نے عورتوں کی مارکی میں شور اور باتوں کی وجہ سے عورتوں پر کچھ پابندی لگائی تھی لیکن پھر عورتوں کے مسلسل خطوط اور معافی کی درخواستیں آنے کی وجہ سے اور جلسہ کی اہمیت کے پیش نظر یہ پابندی اٹھالی گئی، اس سال بھی جلسہ ہو رہا ہے۔لیکن ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ آپ نے جو وعدہ کیا ہے کہ اب تمام جلسہ کی کارروائی کو غو ر اور خاموشی سے سنیں گی اسے پورا کرنا ہے۔آپ سے سبق لیتے ہوئے ، یہاں جرمنی کی لجنہ سے سبق لیتے ہوئے دنیا کی بہت سی لجنات کی جو تنظیمیں ہیں انہوں نے خاموشی سے اپنے پروگراموں میں شامل ہونے کا عہد کیا اور اس پر عمل بھی کیا۔بہت سوں نے سبق سیکھا۔اب آپ کا یہ فرض ہے کہ اس عہد کو پورا کریں۔گھانا کی میں بات کر رہا تھا وہاں جلسے پر 50 ہزار کے قریب عورتیں شامل ہوتی تھیں اور فجر کی نماز میں بھی 25-30 ہزار کے قریب عورتیں شامل ہوتی تھیں۔بچے بھی بعض کے ساتھ ہوتے تھے۔لیکن مجال ہے جو کوئی شور ہوا ہو۔نمازوں کے اوقات میں بھی ، جمعہ کے وقت میں بھی ، خطبے کے دوران بھی، تقریروں کے اوقات میں بھی باوجود گرمی کے اور اس کے باوجود کہ بچوں کا کوئی علیحدہ انتظام نہیں تھا، مجال ہے جو کسی طرف سے کوئی آواز آئی ہو۔بڑی خاموشی سے سب نے تمام کارروائی دیکھی اور سنی۔پس وہ قومیں جو بعد میں شامل ہو رہی ہیں اگر اپنے نمونے اسی طرح قائم کرتی رہیں تو آگے نکل جائیں گی اور ان کا حق بنتا ہے کہ آگے نکلیں۔میں یہ باتیں عورتوں سے کہنا چاہتا تھا، کل بھی کہہ سکتا تھا لیکن اس خوف سے کہ کہیں وہ اپنے وعدے کو بھول نہ جائیں اور یہ ڈیڑھ دن جلسے میں دوبارہ شور نہ مچانا شروع کر دیں یہ یاددہانی کروارہا ہوں۔پس ان باتوں کو پلے باندھ لیں کہ تمام پروگرام آپ نے صبر اور تحمل سے نہ صرف سننے ہیں بلکہ اس لئے سنتے ہیں کہ ان پر عمل کرنا ہے اور تبھی آپ لوگ خلافت جوبلی کے حوالے سے جو عہد کر رہے ہیں اور جلسے منعقد کر رہے ہیں ، اس کو پورا کرنے والے ہوں گے اس سے فیض پانے والے ہوں گے۔پس مرد عور تیں سب یہ ذہن میں رکھیں کہ خلافت کے انعام سے فیضیاب ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کا حقیقی عابد بنا اور اس کے احکامات کی پیروی کرنا ضروری ہے۔اس کے لئے کوشش کریں اور اپنے معیاروں کو بلند کرتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 15 شماره 37 مورخہ 12 ستمبر تا 19 ستمبر 2008 صفحہ 5 تا8)