خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 19

خطبات مسرور جلد ششم 19 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جنوری 2008 موجود ہے اندرونی شہادت کی بھی اور بیرونی کی بھی کہ یہ کتاب جو ہمارے پاس ہے وہی ہے جو خود محمد ) دنیا کے سامنے پیش کی تھی اور اسے استعمال کیا کرتے تھے۔(بحوالہ تفسیر کبیر جلد چہارم صفحه 16) پھر لکھتے ہیں کہ ممکن ہے کہ تحریر کی کوئی معمولی غلطیاں ہوں“۔یعنی طرز تحریر میں ہوں تو ہوں، یہ ان کا طرز ہے شک میں ڈالنے کے لئے بہر حال۔لیکن جو قرآن عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اس کا مضمون وہی ہے جو محمد نے پیش کیا ہے ( )۔گو اس کی ترتیب عجیب ہے۔یورپ کے محققین کی وہ تمام کوششیں جو قرآن میں بعد میں بعض اضافہ جات ثابت کرنے کے لئے کی گئی تھیں قطعا نا کام رہی ہیں۔(Encyclopaedia Britanica۔Edition: 1911۔Under heading "Quran"۔P۔905) اس طرح کے بہت سارے ہیں۔پس یہی وہ کتاب ہے ، الکتب ہے جو حضرت محمد مصطفی یا کہ حضرت خاتم الانبیاء پر اتری۔اس میں تحریف کی نہ پہلے بھی کوئی کوشش کامیاب ہوئی نہ آئندہ ہو سکتی ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ میں اس کی حفاظت کروں گا۔یہ انسانوں کے ذریعہ ہمارے تک نہیں پہنچی بلکہ اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمائے تھے کہ اس کی حفاظت کے سامان ہمیشہ ہوتے رہے۔اور ان کی کوششوں کے باوجود نہ ہی کبھی یہ الزام لگ سکتا ہے کہ اس میں کسی زمانہ میں بھی کبھی رد و بدل ہوئی۔کتاب کے معنی جمع کرنے والی چیز کے بھی ہیں۔پس اس لحاظ سے قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس میں تمام قسم کی تعلیمات جمع ہو گئی ہیں۔اس میں تمدنی علم بھی ہے، مذہبی علم بھی ہے جیسا کہ میں نے کہا، اقتصادی بھی ہے، سائنسی بھی ہے ، اخلاقی تعلیم بھی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ذَالِكَ الْكِتَابُ یعنی یہ وہ کتاب ہے جس نے خدا کے علم سے خلعت وجود پہنا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کا علم تمام علوم سے کامل تر ہے۔پس جو تعلیمات اس میں جمع کی گئی ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر اپنے کامل علم کے مطابق اتاری ہیں کیونکہ شریعت کامل ہورہی تھی اس لئے تمام تعلیمات جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں اس طرح کسی اور شرعی کتاب میں اس اعلیٰ پائے کی نہیں اتریں۔بعض احکامات ایک جیسے ہیں لیکن ان کے بھی معیار وہ نہیں ہیں۔لَا رَيْبَ فِيهِ کہ کر اللہ تعالیٰ نے مزید فرما دیا کہ میں جو تمام علوم کا سر چشمہ ہوں تمہیں بتا رہا ہوں کہ اس تعلیم کے اعلیٰ پائے کے ہونے میں کوئی شک نہیں اور کسی بھی شک وشبہ میں کوئی گنجائش نہیں تم لاکھ کوشش کر لو اس جیسی کتاب نہیں بنا سکتے۔دجل سے کام لے کر کوشش تو کر لو گے لیکن فور انگے ہو جاؤ گے۔چنانچہ ذرا اسے غور سے جیسا کہ پہلے میں نے کہا ایک عام آدمی بھی ،معمولی تعلیم یافتہ بھی اس کو دیکھ لے تو پتہ چل جاتا ہے کہ اس میں کتنے سقم ہیں، کتنی بے ترتیبیوں سے ان کو جوڑا گیا ہے۔قرآن کریم کی تعلیم کا