خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 328
328 خطبه جمعه فرمودہ 15 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم بندوں کے درمیان عدل قائم کر کے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ان دونوں باتوں کے لئے جو کوشش ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے۔جو کامیابی ملنی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملنی ہے۔اس لئے جب مسجد میں آؤ تو اپنی تو جہات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سیدھی رکھو۔نماز کے لئے کھڑے ہو تو خالص ہو کر اس کو پکارو، اس سے فضل مانگو کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق کی ادائیگی کی بھی توفیق عطا فرمائے اور آپس کے تعلقات میں بھی عدل قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔کسی کے حقوق غصب کرنے سے بچاتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔جو ایسی عبادتوں کے ادا کرنے والے ہوں گے اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والے ہوں گے وہ پھر اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے والے ہوں گے۔کیونکہ یہی خالص عبادتیں ہیں جن کو خدا تعالیٰ سنتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ بصیر بھی ہے صرف ظاہری چیز نہیں دیکھتا یا دیکھ رہا بلکہ اس کی بڑی گہری نظر ہے دلوں کے اندرونے کو بھی دیکھ رہا ہے، انسان کی پاتال تک سے وہ واقف ہے۔اسے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اے اللہ میں تیرے لئے خالص ہو کر سب کچھ کر رہا ہوں ، اس لئے میری دعاؤں کو قبول فرما۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بصیر ہوں ہمیں اسے بھی دیکھ رہا ہوں جو تمہارے دلوں میں ہے۔میں تمہاری اس نیت سے بھی واقف ہوں جس سے تم نے امانتیں لوٹا ئیں ، جس سے تم نے صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے نمازیں ادا کیں۔اس پر بھی میری گہری نظر ہے جو عدل کے تقاضے تم نے میرے حکموں پر چلتے ہوئے پورے کرنے کی کوشش کی۔ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کیا کہ نمازوں میں کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کا کس طرح کا نقشہ پیش نظر ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ” موٹی بات ہے قرآن شریف میں لکھا ہے اُدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ اخلاص سے خدا تعالیٰ کو یاد کرنا چاہئے اور اس کے احسانوں کا بہت مطالعہ کرنا چاہئے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان پر جو احسان کئے ہیں اُن کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔آپ میں سے بہت سارے یہاں ہیں ، اپنے جائزے لیتے رہیں، اللہ تعالیٰ کے انعاموں اور احسانوں کو گنتے رہیں تو تبھی صحیح عبادت کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔فرماتے ہیں کہ اس کے احسانوں کا بہت مطالعہ کرنا چاہئے۔چاہئے کہ اخلاص ہو، احسان ہو اور اس کی طرف ایسار جوع ہو کہ بس وہی ایک ربّ اور حقیقی کارساز ہے۔عبادت کے اصول کا خلاصہ اصل میں یہی ہے کہ اپنے آپ کو اس طرح سے کھڑا کرے کہ گویا خدا کو دیکھ رہا ہے اور یا یہ کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ہر قسم کی ملونی اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو جاوے اور اُسی کی عظمت اور اُسی کی ربوبیت کا خیال رکھے۔ادعیہ ماثورہ اور دوسری دعائیں خدا سے بہت مانگے اور بہت توبہ واستغفار کرے اور بار بار اپنی کمزوری کا اظہار کرے تا کہ تزکیہ نفس ہو جاوے اور خدا سے سچا تعلق ہو جاوے اور اُسی کی محبت میں محو ہو جاوے“۔(الحکم جلد 11 نمبر 38 مورخہ 24 را کتوبر 1907ء صفحہ 11۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود زیر سورۃ الاعراف آیت 30)