خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 18
خطبات مسرور جلد ششم 18 خطبه جمعه فرموده 11 جنوری 2008 حکومت پر کوئی حملہ کرتا ملکوں پر حملہ کرتا ہے اور حکومتیں جواب دیتی ہیں اور اب بھی اس صورت میں اجازت ہے نہ کہ تنظیموں کا کام ہے۔ان عقل کے اندھوں کو اب یہ بتانا جہاد ہے کہ دلیل سے ہم ثابت کرتے ہیں کہ تمہاری یہ کوشش جو ہے یہ بچگا نہ کوشش ہے۔اگر اس کتاب کو دیکھیں تو انتہائی بچگانہ کوشش لگتی ہے۔بظاہر یہ دعویٰ ہے کہ بڑے عقلمندوں نے بنایا ہے لیکن دیکھنے سے ہی پتہ لگ جاتا ہے، ایک عام فہم کا انسان اس کو دیکھتے ہی سمجھ لیتا ہے کہ انسانی کوشش ہے۔تو بہر حال قرآن کریم کی اصل حالت میں حفاظت کی ، اللہ تعالیٰ کے قرآن کریم کے بارے میں اس اعلان کی میں بات کر رہا تھا ہمیشہ اس کی حفاظت کروں گا۔بعض مستشرقین جو ہیں جو اسلام کے خلاف تو ڑ مروڑ کر بھی پیش کرتے ہیں ان سے بھی یہ تائید کروائی ہے۔انہوں نے بھی بالآخر مجبوراً یہ لکھا ہے۔چنانچہ جان برٹن (John Burton) کی ایک کتاب The Collection of " "The Quran ہے۔اس میں وہ لکھتے ہیں۔تھوڑا سا حصہ میں پڑھتا ہوں کہ ”ہم تک پہنچنے والا متن بعینہ وہی ہے جو خود نبی کریم ﷺ کا مرتبہ اور مصدقہ ہے۔چنانچہ آج ہمارے پاس جو کتاب ہے ( یعنی قرآن) یہ دراصل مصحف محمدی ہی ہے۔(John Burton, The Collection of The Quran, Cambridge University Press, 1997۔P۔239-240) پھر HA۔R Gibb لکھتے ہیں کہ یہ ایک نہایت قوی حقیقت ہے کہ ( قرآن کریم میں ) کسی قسم کی کوئی تحریف ثابت نہیں کی جاسکی۔اور یہ حقیقت بھی بہت قوی ہے کہ محمد (ﷺ) کے بیان فرمودہ الفاظ کو اصل حالت میں مکمل احتیاط کے ساتھ اب تک محفوظ رکھا گیا ہے“۔(H۔A۔R۔Gibb, Muhammadanism,London, Oxford University Press 1969, P۔50) سرولیم میور بہت بڑے مستشرق ہیں وہ لکھتے ہیں کہ دنیا کے پردے پر اور کوئی ایسا کام نہیں کہ جس کا متن بارہ صدیوں کے بعد بھی صحیح ترین حالت میں ہو“۔(Sir William Muir, Life of Mahomet, London 1878۔P۔558) ڈاکٹر موررس بکائے "The Bible ,The Quran and Science" میں لکھتے ہیں۔فرنچ سے ٹرانسلیشن ہے کہ آج کے دور میں مہیا ہونے والے قرآن کریم کے تمام نسخے اصل متن کی دیانتداری سے کی گئی نقول ہیں۔قرآن کے معاملہ میں اب تک کے شب و روز میں تحریف و تبدل کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔(The Bible, The Quran and Science, Translation from French by Alstair D۔Pannel and The Author under heading Conclusion, P۔102) پھر نولڈ یکے جو بہت بڑے مستشرق تھے۔وہ لکھتے ہیں کہ اس کے علاوہ ہمارے پاس ہر ایک قسم کی ضمانت