خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 315
315 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده یکم اگست 2008 نہیں بلکہ اب ایم ٹی اے کے ذریعے سے دنیا میں ہر احمدی اس میں شامل ہوتا ہے اور اس ماحول سے اثر لیتا ہے۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ غیر تو اثر لے کر اس کا اظہار کر دیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والوں پر ان کا اثر نہ ہو۔یقیناً اثر ہوتا ہے اور ہر روز اس بارے میں مجھے خط آ رہے ہیں۔فیکسز آ رہی ہیں جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا اور اس جلسہ کے بارہ میں تو ہر ایک کا یہی تاثر ہے کہ ایک خاص ماحول میں یہ جلسہ ہوتا نظر آیا تھا جو گزشتہ جلسوں سے منفرد لگتا تھا۔یہاں شامل ہونے والوں نے بھی یہی محسوس کیا ہے اور ایم ٹی اے دیکھنے والوں نے بھی یہی محسوس کیا ہے۔پس یہ تمام چیزیں ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنانے والی ہونی چاہئیں تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والے بن سکیں گے اور ان جلسوں کے انعقاد کے مقصد کو پورا کرنے والے بن سکیں گے اور اس کے لئے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا اور اس آیت میں بھی ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرا ذکر کرتے رہو، مجھے ہمیشہ یادرکھو، میرے حکموں پر عمل کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر میں تمہیں یاد رکھوں گا۔یعنی تمہیں نیکیوں میں بڑھاتا رہوں گا اور یہی حقیقی شکر گزاری ہے اور نیکیوں میں اللہ تعالیٰ کا بڑھانا اس شکر گزاری کی جزا ہے۔پھر شیطان سے اللہ تعالی کی پناہ ہمیں مانگتے رہنا چاہئے کہ جو نیکیاں ہم نے سیکھیں اور سنیں ان کو اپنے اندر رائج کرنے کی کوشش کریں اور شیطان کے بہکاوے میں نہ آجائیں۔پس یہ باتیں ہر احمدی کو ہر وقت مد نظر رکھنی چاہئیں تا کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انعامات ہم پر بڑھتے چلے جائیں۔ہم ہمیشہ آنحضرت ﷺ کے بچے غلاموں میں شامل ہو کر اپنے اعمال میں پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے۔آپ کے جھنڈے کو دنیا کے ہر ملک ہر شہر اور ہرگلی میں لہرانے والے بن سکیں۔خدا تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ کی ایک دعا کا ذکر ملتا ہے اسے بھی ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔آپ یہ دعا اپنے مولیٰ کے حضور عرض کیا کرتے تھے کہ اے میرے رب مجھے اپنا شکر گزار، اپنا ذکر کرنے والا ، اپنے سے ڈرنے والا اور اپنا کامل اطاعت گزار اور اپنے حضور عاجزی کرنے والا بنا دے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اس دعا کو اپنی دعاؤں میں ان کا خاص حصہ بنا کر اپنے حق میں اسے قبول ہوتے ہوئے دیکھیں آمین۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا کہ: ابھی جمعہ کے بعد میں ایک حاضر جنازہ پڑھاؤں گا اور اس کے ساتھ ہی ایک جنازہ غائب ہے مکرم پیر ضیاء الدین صاحب کا۔جو حضرت پیرا کبر علی صاحب کے بیٹے اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کے داماد تھے۔گزشتہ دنوں وہ فوت ہو گئے جب میں دورہ پہ تھا۔تو ان کی نماز جنازہ غائب بھی ساتھ ہی ہوگی۔الفضل انٹر نیشنل جلد 15 شمارہ نمبر 34 مورخہ 22 اگست تا 28 اگست 2008ء صفحہ 5 تا 8 )