خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 314
314 خطبه جمعه فرموده یکم اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم ہی عورتوں میں جن میں کام کرنے والے افسران صیغہ جات بھی ہوتے ہیں ، نائین بھی ہوتے ہیں منتظمین بھی ہوتے ہیں معاونین بھی ہوتے ہیں اور کام کا بہت بڑا حصہ معاونین نے سنبھالا ہوتا ہے۔گو افسر پالیسی بنا کر دے دیتے ہیں لیکن معاونین کام کرنے والے ہوتے ہیں جن میں بچے بھی ہیں، بچیاں بھی ہیں۔نوجوان بھی، چھوٹی عمر کے بھی ہیں۔ان شعبہ جات میں، کچھ تو ظاہری شعبہ جات ہیں ، سب جانتے ہیں۔ایک شعبہ ترجمانی کا بھی ہے جو مختلف زبانوں میں ترجمہ کر رہے ہوتے ہیں۔تقریباً اس دفعہ جلسہ پر اڑھائی ہزار لوگوں کے لئے مختلف زبانوں میں ترجمے کا کام ہورہا تھا۔اس حوالے سے میں واقفین نو بچوں کو بھی کہنا چاہتا ہوں ، خاص طور پر بچیاں کہ زبانیں سیکھنے کی طرف توجہ کریں کیونکہ آئندہ یہ ضرورت بڑھتی جائے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہمیں مستقل اپنے واقفین چاہئیں اور وہ واقفین نو میں سے ہی پورے ہو سکتے ہیں۔پھر جو کارکن مختلف شعبہ جات میں مہمانوں کی خدمت کر رہے تھے، ان کی تعداد مردوں اور لڑکوں کی تقریباً 3500 تھی جو جلسہ کی خدمت پر مامور تھے۔اسی طرح لجنہ میں عورتوں اور بچیوں کی تعداد 1800 تھی اور تمام بڑی خوشدلی سے یہ کام کر رہے تھے۔مہمانوں کو بھی جو آئے ہوئے ہیں ان سب کے لئے دعا کرنی چاہئے۔اس کے علاوہ ایم ٹی اے کے جو کام کرنے والے کارکنان ہیں جو جلسہ گاہ میں تھے وہ تقریباً 110 تھے۔سب تقریباً والنٹیئر زتھے۔ویسے تو 180 کارکن ہیں جو ہر وقت ایم ٹی اے میں کام کر رہے ہیں جنہوں نے بیرونی دنیا کے احمدیوں کے لئے بھی جلسہ دیکھنے کا انتظام مہیا کیا۔تو دنیا میں بسنے والے تمام احمد یوں کو بھی اس شکر گزاری کے طور پر ان لوگوں کے لئے بھی بہت دعا کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے جنہوں نے آپ کو یہاں آنے والوں کو بھی اور باہر کی دنیا کو بھی جلسے کے انتظامات اور اس کے دیکھنے کو آسان بنایا اور یہی شکر گزاری ہے جس کا حکم ہے۔اسی طرح تمام کارکنان کو بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے انہیں تو فیق عطا فرمائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کر سکیں۔پس یہ باتیں ہمیں ہمیشہ شکر گزار بناتی ہیں اور بنانی چاہئیں۔شامل ہونے والوں کو بھی کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر جمع ہونے کا موقع ملا اور اللہ تعالیٰ نے تمام کام اپنے فضل سے آسانی سے اپنے انجام تک پہنچائے اور خدمت کرنے والوں کو بھی کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر انہیں خدمت کرنے کا موقع ملا۔اور شامل ہونے والوں کی شکر گزاری کا ایک یہ بھی اظہار ہے کہ اس جلسہ کے ماحول میں جو کچھ نیک باتیں سننے اور دیکھنے کا موقع ملا اللہ تعالیٰ سے فضل مانگتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی بھی کوشش کریں۔کام کرنے والوں کو بھی یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں نیکیوں میں بڑھنے اور خدمت کی ہمیشہ تو فیق عطا فرمائے۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ہر ایک کو یا درکھنا چاہئے جس کی تلاوت میں نے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کر کے ہمیشہ شکر گزار بنتے رہیں۔اس مادی ماحول میں جہاں ہر طرف شیطان اپنے ساز وسامان کے ساتھ راستے سے بھٹکانے کے لئے کھڑا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک احمدی کے لئے اپنی روحانی ترقی کی بہتری کے لئے سامان مہیا فرمائے ہیں۔پس یہ جلسے روحانی ترقی کا باعث بنتے ہیں اور صرف یہاں بیٹھے ہوئے شامل ہونے والوں کے لئے