خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 17
خطبات مسرور جلد ششم 17 خطبه جمعه فرموده 11 جنوری 2008 سہولتیں بھی دی گئی ہیں۔تو یہ ہے مکمل تعلیم جو قرآن کریم نے ہمیں دی ہے۔اسی طرح کی اور بہت ساری مثالیں ہیں۔پھر جو قومی یا اجتماعی احکامات ہیں مثلاً جہاد یا جنگ کا حکم ہے جس سے اس طبقے کو شرم آتی ہے جو اس میں تحریف کرنا چاہتا ہے۔پہلی بات تو یہ کہ کیا یہ ممالک جن کے پیچھے چل کر یہ لوگ مداہنت دکھا رہے ہیں، بزدلی دکھا رہے ہیں، ان کی خوشامد کرنا چاہتے ہیں، جنگیں نہیں کرتے۔ان لوگوں کی تاریخ ظالمانہ جنگوں سے بھری پڑی ہے اور پھر اس زمانے میں بھی بعض ملکوں پر ان لوگوں نے ظالمانہ تسلط قائم کیا ہوا ہے اور مسلسل جنگ کی صورت ہے۔اس لئے مسلمانوں کو، وہ جو صحیح مؤمن ہے بیچ مسلمان ہے، شرمندہ ہونے کی بجائے ان لوگوں کو شرمندہ کرنا چاہئے کہ کہتے کیا ہوا اور کر کیا رہے ہو۔دوسرے قرآن میں جہاں جہاد کا حکم ہے جو جنگ کی صورت میں ہے۔یعنی جنگ کی صورت میں جہاد، تلوار سے جہاد، اس کے لئے بعض شرائط ہیں کہ تمہارے پر کوئی ظلم کرتا ہے، حملہ کرتا ہے تو ظلم کا جواب دو۔جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے تو بہانے تلاش نہ کرو اور خون بہانے کی کوشش نہ کرو۔اسی طرح بیشمار اور احکامات ہیں۔جنگی قیدی ہیں ان کے ساتھ انصاف کرو، عدل سے کام لو۔اور پھر یہ کہ جنگ اور جہاد یعنی تلوار اور بندوق کا جہاد کرنا ہے تو اس کا فیصلہ اولو الا مر نے کرنا ہے۔ہرا میرے غیرے نے نہیں کرنا اور اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے جو حکم اور عدل بھیجا ہے جس نے یہ فیصلے اس کتاب کی تعلیم کے مطابق کرنے ہیں کہ اب کون ساعمل اللہ تعالیٰ کی نظر میں احسن ہے، جس نے یہ فیصلے کرنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تفصیل اور وضاحت کیا ہے۔کون ساعمل اب اللہ تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ ہے تو اس حکم اور عدل نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ اس زمانے میں میرے آنے کے ساتھ تیر و تفنگ ،تلوار ، بندوق کے ساتھ جہاد بند ہے اور اب جہاد کے لئے تم بھی وہی حربے استعمال کرو جو مخالفین استعمال کر رہے ہیں۔یا تمہارا دشمن استعمال کر رہا ہے۔مخالف لٹریچر اور میڈیا کے ذریعہ سے اسلام کے خلاف نفرت پھیلا رہا ہے تو تم بھی لٹریچر کے ذریعہ سے نہ صرف اس کا دفاع کرو بلکہ قرآنی تعلیم کو پھیلا کر ثابت کرو کہ یہی ایک تعلیم ہے جو نجات دلانے والی تعلیم ہے جو کہ خدائے واحد کی طرف سے ہے۔اگر یہ لوگ دجل سے کام لیتے ہوئے قرآن کی طرز پر کتاب شائع کر کے عیسائیت کی تعلیم دے رہے ہیں تو اس کا رڈ کرو۔پس اس حکم کی اب یہ تشریح ہے کہ اب جہاد تعلیمی اور علمی جہاد ہے۔جہاد کا مطلب صرف تلوار چلا نانہیں ہے۔نہ ہی کبھی آنحضرت ﷺ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم نے صرف یہی مطلب سمجھا ہے۔بلکہ جہادا کبر قرآنی تعلیم پر عمل کرنا اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھالنا ہے۔اگر جہاد کی صورت میں جنگ کا جواب دینے کی اجازت ہے۔اگر