خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 312 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 312

خطبات مسرور جلد ششم 312 خطبه جمعه فرموده یکم اگست 2008 زمانہ بھر میں اس وقت کسی دوسرے میں نہیں ہے۔ان لوگوں کی تبدیلی تو حیرت میں ڈالتی ہے۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 536 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) پھر آپ نے فرمایا : ” خدا تعالیٰ نے اس وقت ایک صادق کو بھیج کر چاہا کہ ایسی جماعت تیار کرے جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرے۔پس یہ اخلاص اور وفا جو جماعت میں ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کی وجہ سے ہے اور لوگوں سے محبت یا آپ کے مہمانوں کی خدمت کا جذبہ ہر بچے بوڑھے میں اس لئے ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہی ایک بہت بڑی دلیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صادق اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کی ہے۔جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت چاہا کہ صادق کو بھیج کر اللہ تعالیٰ سے محبت پیدا کرنے والے تیار کرے۔پس ہماری یہ خوش قسمتی ہے کہ غیر بھی اس بات کا برملا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ یہ جماعت بچوں کی جماعت ہے۔اس دفعہ جلسہ کی ایک رونق اور میڈیا میں مشہوری کی وجہ جرمنی سے آئے ہوئے سائیکل سوار بھی تھے۔یہ 100 نوجوان سائیکل سواروں کا گروپ تھا۔یہ بھی اخلاص و وفا کا ایک اظہار ہے جو اس معاشرے کے رہنے والے نو جوانوں کے دل میں ہے اور خلافت احمدیہ سے ایک تعلق ہے کہ خلافت کے 100 سال پورے ہونے پر انہوں نے 100 سائیکل سواروں کا گروپ تیار کیا۔لیکن یہاں ایک وضاحت کردوں ، اس بارہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ اس میں پہل افریقہ نے کی ہے۔یورپ میں رہنے والوں کی قربانی بھی بہت ہے لیکن تاریخ تو ٹھیک ہونی چاہیئے۔یہ وضاحت میں اس لئے کر رہا ہوں کہ جلسہ کے دنوں میں اتفاقا میں نے ایک دن ٹی وی پر ایم ٹی اے آن(On) کیا تو وہاں یہ گفتگو ہورہی تھی سٹوڈیو میں بیٹھے لوگوں کی کہ پہلی دفعہ اتنی تعداد میں سائیکل سوار جلسے میں شامل ہوئے ہیں۔اگر تو وہ ساری گفتگو یورپ کی حد تک رہتی تو ٹھیک تھا لیکن گفتگو کرنے کے دوران میرا خیال ہے شمس صاحب نے شاید کینیڈا کے سائیکل سواروں کی مثال دے کر یہ تاثر قائم کر دیا کہ گویا دنیا میں یعنی احمدی دنیا میں یہ پہلا واقعہ ہوا ہے۔لیکن میرا خیال ہے کہ پاکستان میں جب اجتماعات ہوتے تھے کافی بڑی تعداد میں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی تحریک پر سائیکل سوار آیا کرتے تھے۔خدام نے جو یہ کام شروع کیا ہے اگر اس کو جاری رکھیں تو آج کل دنیا میں جو پیٹرول کی کمی کا رونا رویا جارہا ہے اور مہنگائی کا رونا رویا جارہا ہے، کم از کم نو جوان تو اس سے بچ سکتے ہیں اور ایکسر سائز (Exercise) کی ایکسرسائز (Exercise) ہے، ورزش ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الثالث کی اس تحریک کا اس زمانے میں بڑا فائدہ ہوا تھا۔مجھے بھی یاد ہے میں اس زمانے میں فیصل آباد میں پڑھتا تھا۔اس تحریک کی وجہ سے مجھے سائیکل سفر کی عادت پڑ چکی تھی۔تو جلسہ کے بعد ایک دفعہ