خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 308
308 خطبه جمعه فرموده یکم اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم سے مبارکباد کے خطوط بھی جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا بڑا جذباتی رنگ لئے ہوئے ہوتے ہیں۔بہر حال اپنی روایت کے مطابق آج کے خطبہ میں UK کے جلسے کے حوالے سے کچھ باتیں جو جلسہ کے ضمن میں ہیں، لوگوں کے تاثرات ہیں اور اسی طرح ایک احمدی کو بھی اس کا کس طرح شکر گزار ہونا چاہئے ، اس بارے میں مختصر ا ذ کر کروں گا۔اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ جیسا کہ میں نے جلسہ کے آخری دن بتایا تھا اس سال یہاں کے جلسہ کی حاضری 40 ہزار سے اوپر تھی۔گو کہ ابھی تک جو جلسے خلافت جو بلی کے حوالے سے ہورہے ہیں ان میں گھانا کا جلسہ سب سے بڑا تھا، جس میں حاضری ایک لاکھ سے اوپر تھی۔لیکن نمائندگی کے لحاظ سے 85 ممالک کی نمائندگی اتنی بڑی تعداد میں صرف یہاں کے جلسہ میں ہی تھی۔اتنی بڑی تعداد میں اتنے ملکوں کی نمائندگی مخالفین کے لئے یقیناً ایک تازیانہ ہے لیکن ہمیں یہ بات اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنانے والی ہونی چاہئے۔اس دفعہ بھی ہمیشہ کی طرح بہت سے غیر از جماعت، مسلمان بھی اور غیر مسلم بھی ، اس ملک سے بھی اور بیرونی دنیا سے بھی ہمارے جلسہ میں شامل ہوئے جو اچھے اور نیک جذبات اور خیالات جماعت کے بارے میں رکھتے ہیں۔کچھ نے اپنے خیالات کا اظہار بھی جلسہ کے دنوں میں کیا جو آپ لوگوں نے سنا۔ہر ایک نے عمومی طور پر جلسہ کے انتظامات کی تعریف کی اور جماعت کی تعلیم کی تعریف کی ، احمدیوں کے سلوک سے بہت متاثر ہوئے۔تو یہ جلسہ جہاں ہماری روحانی بہتری اور تربیت کا ذریعہ بنتا ہے وہاں ان جلسوں سے جو مختلف ممالک میں ہوتے ہیں اور یہ جلسہ بھی تبلیغ کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔مجھے جو بھی ملے سب نے بر ملا اس بات کا اظہار کیا کہ تقریروں کے معیار بھی اور ان تقریروں کے نفس مضمون بھی ایسے تھے کہ جنہوں نے ہمیں نئی روشنی عطا کی ہے۔نائیجیریا کے ایک پڑھے لکھے اور مسلمان سکالر ہیں ، انہوں نے اس بات کا بر ملا کھل کر اظہار کیا کہ میں جماعت احمدیہ کے بارے میں بہت کچھ سنتا تھا، تعلقات تھے لیکن دل میں شکوک و شبہات تھے کہ یہ لوگ ہیں کیسے؟ ان کے عمل کیا ہیں اور ان کی تعلیم کیا ہے؟ کہتے ہیں کہ جو کچھ میں نے یہاں دیکھا اس کے بعد میں اس کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ حقیقی اسلام صرف تمہارے پاس ہے۔بلغاریہ کا وفد آیا ہوا تھا، اس میں بھی بعض ایسے ممبران تھے جواحمدی نہیں ہیں۔وہ بھی جماعت کے پرانے تعلق رکھنے والے ہیں، وہ بھی یہ دیکھنے آئے تھے، ان میں سے کچھ جرمنی میں بھی شامل ہوتے رہے ہیں کہ جماعت کی تعلیم کیا ہے اور یہ کیسے لوگ ہیں۔بلغاریہ بھی یورپ کا ایک واحد ملک ہے جہاں جماعت کی مخالفت ہے۔کیونکہ یہ مسلمان ملک ہے ان کی مسلم کونسل کا اثر حکومت پر ہے ، جماعت کی وہاں رجسٹریشن میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔تو ان غیر از جماعت نے بھی یہی اظہار کیا کہ ہم نے دیکھا اور سنا اور لوگوں سے ملے حقیقی اور اصلی اسلام ہمیں یہیں نظر آیا ہے۔جلسہ کے دنوں میں عموماً باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کو وقت دیا جاتا ہے جس میں چند منٹ وہ اپنے خیالات