خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 16

خطبات مسرور جلد ششم 16 خطبه جمعه فرموده 11 جنوری 2008 دجل کی کوششیں کرنی ہیں تو کر کے دیکھ لولیکن کبھی کامیاب نہیں ہو گے۔اس کتاب کی حفاظت اور اس شریعت کی حفاظت اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ سے فرماتا رہتا ہے اور اس زمانے میں بھی وہ جری اللہ مبعوث ہو گیا جس نے دجال کے تو ڑ کرنے تھے اس لئے چاہے جتنی بھی کوشش کر لو یہ خدا کی تقدیر ہے کہ اب شیطان کے بندوں اور رحمن کے بندوں کی آخری جنگ ہے جس میں یقینا رحمان کے بندوں نے کامیاب ہونا ہے۔ان لوگوں کو مخالفین کو جو اپنے کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس کی پیشگوئی فرمائی تھی تا کہ اللہ تعالیٰ یہ بتا سکے کہ سب طاقتوں کا سر چشمہ میں ہوں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جب میں کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہوں تو وہ ہو کر رہتی ہے۔اس لئے ہمیں ان باتوں کی کوئی فکر نہیں کہ ان کے یہ دجل کامیاب ہو جائیں گے۔ہاں بعض بے وقوفوں اور کم علموں کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اور بعض مسلمانوں میں سے کچھ ان کی باتیں سن کے کچھ ضائع بھی ہو جاتے ہیں۔کچھ تو شرارت سے کچھ معصومیت سے پھنس جاتے ہیں۔پس وہ لوگ بھی جو مسلمان کہلا کر پھر تعلیم کے بعض حصوں کو دیکھ کر منہ چھپاتے پھرتے ہیں، پریشان ہونے کی بجائے اس زمانے کے جری اللہ سے اس کتاب کی تعلیم کا فہم وادراک حاصل کریں۔اس سے یہ تعلیم سیکھیں تا کہ پتہ چلے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔قرآن کریم کے احکامات ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔اس کے ایک ایک حرف کی حفاظت اللہ تعالیٰ اس کے نزول کے دن سے کر رہا ہے اور کرتا رہے گا انشاء اللہ۔یہ اس کا وعدہ ہے۔پس قرآن ایسی کتاب ہے جس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔بعض مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی بعض تعلیمات اب منسوخ ہونی چاہئیں۔جیسا کہ میں نے کہا ان کو اس تعلیم کو جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق اور اس زمانے کے امام سے سمجھنا چاہئے جس کو اللہ تعالیٰ نے براہ راست اس زمانے میں اس کے لئے مقرر فرمایا ہے۔قرآن کریم کی تعلیم کے بارے میں یہ اہم بات سمجھنے والی ہے۔اس میں کتاب کا ایک مطلب احکامات اور فرائض بھی ہیں۔تو اس میں کچھ فرائض ہیں، کچھ احکامات ہیں اور فرائض ایسی چیز ہیں جو ضروری ہیں، لازمی ہیں رڈو بدل نہیں ہوسکتیں اور ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ کس طرح ان کی ادائیگی کرنی ہے۔بڑی واضح تعلیم ہے اور دیگر احکامات میں حالات کے مطابق کمی بیشی ہو جاتی ہے۔ان احکامات میں سے بعض ذاتی نوعیت کے ہیں اور ایسے بھی جو جماعتی اور قومی نوعیت کے بھی ہیں۔جو ذاتی ہیں ان میں بعض حالات اور مجبوریوں کی وجہ سے فرد کو اختیار دیا گیا ہے۔مثلاً عبادت میں فرض نمازیں ہیں۔یہ لازمی ہیں۔نوافل ہیں یہ اختیاری ہیں۔پھر فرض نمازوں میں باجماعت نماز ہے۔کھڑے ہو کر پڑھنا ہے ، باوضو ہونا ہے، اس طرح کے احکامات ہیں۔پھر ساتھ ہی بیمار یا مسافر کو بعض