خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 302 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 302

302 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم پھر کھانے کے وقت میں بعض دفعہ عورتیں اور بچے یا ایسے مریض جن کو شوگر وغیرہ کی بیماری ہے، بھوک برداشت نہیں کر سکتے ان کو لمبے فاقے کی وجہ سے دقت پیدا ہوتی ہے، وہ لمبافاقہ نہیں کر سکتے۔اگر کسی وجہ سے پروگرام لمبا ہو جاتا ہے یا ٹریفک کی وجہ سے کسی کو زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔بچوں والوں اور مریضوں کو بعض دفعہ کھانے کی حاجت ہوتی ہے جیسا کہ میں نے کہا۔تو اس بارے میں پہلے تو کارکنوں کو میں کہتا ہوں کہ اتنی سختی نہ کیا کریں کہ ایسے لوگوں کے لئے پروگرام کے دوران بھی اگر کسی کو ضرورت پڑتی ہے کیونکہ دکانیں تو بند ہوں گی تو کھانے کا انتظام کر دیا کریں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔دوسرے ایسے بچوں والے اور مریض جلسے کے ہنگامی حالات کے پیش نظر اپنی جیب میں بھی کوئی چیز کھانے کی رکھ لیا کریں تا کہ کسی بھی قسم کی بدمزگی سے بچ سکیں ، تکلیف سے بچ سکیں۔پھر ٹرانسپورٹ کے انتظار میں بھی وقت لگ سکتا ہے۔گو کہ اس دفعہ انتظام گزشتہ سال کی نسبت بہت بہتر ہے، انشاء اللہ تعالیٰ دقت نہیں ہوگی۔لیکن پھر بھی کسی امکان کو ہم رو نہیں کر سکتے۔خاص طور پر واپسی کے وقت جب زیادہ رش پڑ جاتا ہے اُس وقت بعض وقتیں پیدا ہوسکتی ہیں تو انتظامیہ بھی ایسی ہنگامی صورتحال کے لئے جہاں جہاں بھی بسوں کے سٹینڈ بنائے گئے ہیں جہاں سے مسافروں کو اٹھانے کا انتظام ہے، ( مسافر ) اپنے پاس بھی کچھ رکھیں اور ضیافت کی ٹیم کا بھی کام ہے کہ ان کے سپر د کچھ کر دیا کریں اور کچھ نہیں تو پیٹا بریڈ (Pita Bread) کے پیکٹ رکھ دیا کریں تا کہ فوری طور پر اگر دیر ہو جاتی ہے تو ہنگامی طور پر کچھ نہ کچھ کھانے کومل جائے۔گزشتہ سال بھی بعض ایسی شکایات آتی رہی ہیں لیکن مہمانوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ میزبان کا جو فرض ہے وہ تو پورا کرے گا لیکن مہمانوں کو بھی یادرکھنا چاہئے کہ ہم نے تو اس اُسوہ پر چلنا ہے جو آنحضرت ﷺ کا تھایا جس کے نمونے ہمیں اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دکھائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کس قسم کے مہمان تھے اس کا ایک نمونہ بھی دیکھ لیس ہمیں نے ایک روایت میں سے نکالا ہے۔میز بانوں کے نمونے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے میں نے گزشتہ خطبہ میں پیش کئے تھے۔لیکن آپ جب مہمان تھے تو کس طرح ان کے مہمان تھے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ تحریر کرتے ہیں کہ جنگ مقدس ( جنگ مقدس وہ تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور عیسائیوں کے درمیان ایک مباحثہ ہوا تھا اور عبداللہ تم عیسائیوں کی طرف سے پیش ہوا تھا۔آپ سفر پر گئے تھے وہاں آپ مہمان تھے۔) کی تقریب پر بہت سے مہمان جمع ہو گئے تھے۔ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے کھانا رکھنا یا وقت پر کھانا پیش کرنا گھر والے بھول گئے۔کہتے ہیں کہ میں نے اپنی اہلیہ کو تاکید کی ہوئی تھی مگر وہ کثرت کا روبار اور مشغولیت کی وجہ سے بھول گئی۔یہاں تک کہ رات کا بہت بڑا حصہ گزر گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑے انتظار کے بعد استنفسا فرمایا تو سب کو فکر ہوئی۔بازار