خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 301
301 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم کریں اور اپنے اخراجات خود پورے کریں اور جماعت پر بوجھ نہ بنیں۔اتنا لمبا عرصہ رہنے والوں کی وجہ سے انتظامی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔گزشتہ سال بھی پیدا ہوئے اس سے پہلے بھی پیدا ہوتے رہے اور ان کو جگہ خالی کرنے کے لئے کہا جاتا ہے تو پھر سب ایسے لوگوں کو شکوہ ہوتا ہے۔پھر قانونی طور پر کام کی اجازت نہیں ہے۔ویزا جو ملا ہوتا ہے وہ وزٹ ویزا ہوتا ہے اس لئے بعض مشکلات بھی پیدا ہوتی ہیں، بعض مسائل ہوتے ہیں۔جماعت کے لئے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔اگر حکومتی اداروں کو پتہ چل جائے اور بعض کے متعلق پتہ چل بھی جاتا ہے۔اس لئے چند ایک وہ لوگ جو اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں ان سے میں کہہ رہا ہوں کہ اگر اس طرح بعد میں رہنا ہے تو اپنا انتظام خود کریں اور جماعت سے کسی قسم کا شکوہ نہ کریں کیونکہ جلسہ کے بعد لمبا عرصہ رہنا پھر اس زمرہ میں آئے گا کہ دعوت کے بعد بیٹھ کر گھر والے کو تکلیف دے رہے ہیں اور اس کے لئے تکلیف کا باعث بن رہے ہیں۔پھر ایک بات یہ بھی مہمانوں کو یاد رکھنی چاہئے کہ ان کی خدمات کرنے والے مختلف طبقات سے کارکنان آتے ہیں بہت پڑھے لکھے بھی ہیں اور عام پڑھے لکھے بھی ہیں اور مختلف پیشوں میں کام کرنے والے بھی ہیں۔یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں اور شوق سے پیش کرتے ہیں۔عموماًہر کارکن بڑی خوشدلی سے یہ کر رہا ہوتا ہے اور ہر کام کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔میں بھی انہیں جلسہ سے پہلے دو تین مرتبہ ہر طرح سے مہمانوں کا خیال رکھنے اور ان کی خدمت کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔لیکن اگر کبھی کسی سے کوئی اونچ نیچ ہو جائے تو مہمانوں کو بھی برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔اگر ہر مہمان اور ہر شخص جو جلسہ میں شامل ہو رہا ہے اپنی بھی ذمہ داری سمجھے تو بعض بدمزگیاں جو پیدا ہو جاتی ہیں ، نہ ہوں۔گزشتہ سال کی بارش کی وجہ سے جو نظام میں دقت پیدا ہوئی، بعض خرابیاں ان کمیوں کی وجہ سے آئیں اس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے کارکنان اور مسافروں میں بعض چھوٹی چھوٹی بدمزگیاں پیدا ہوئیں اور اب بھی مجھے شکایت ملی ہے بعض مہمان ایسے ہیں کہ مثلاً سڑکوں پر گاڑیاں روکنا منع ہیں۔حکومتی انتظامیہ کی طرف سے بھی منع ہے، ہمسایوں کے لئے بھی وقت کا باعث بنتا ہے۔کسی چھوٹے شہر میں ، قصبے میں گاڑی کھڑی کر دیتے ہیں سختی سے بار بار ایم ٹی اے پر اعلان بھی ہو رہا ہے جماعتوں کو بتایا بھی گیا ہے لیکن اس کے باوجود بعض یورپ سے آنے والے اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے ٹیکسی پر آ جاتے ہیں۔یہ بالکل غلط طریق ہے، قواعد کی پابندی کریں۔اگر اس مقصد کے لئے آئے ہیں کہ جلسے کی برکات سے فائدہ اٹھانا ہے۔کارکنوں کو بھی اگر بعض بدمزگیاں پیدا ہوتی ہیں تو کارکن بھی بعض دفعہ تیز ہو جاتے ہیں۔ان کو بھی انسان سمجھ کر ان کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے صرف نظر کرنا سیکھیں تو بدمزگیاں نہ صرف بڑھیں گی نہیں بلکہ پیدا ہی نہیں ہوں گی۔