خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 300
300 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 2008 کرے جو ہر طرح کی بدعملی اور بے حیائی سے بچانے والی ہوں۔ان دنوں میں ہمیں ایسی دعائیں مانگنے کی توفیق ملے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو جذب کرتے ہوئے ہمیشہ ہمیں اس کی رحمتوں اور فضلوں کا وارث بناتے چلے جانے والی ہو۔اللہ تعالیٰ ہمارے مخالفین کو سمجھ اور ہدایت دے اور اگر اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق ان کا یہ مقدر نہیں تو ہمیں اُن کے شر سے بچانے کے ہمیشہ سامان فرماتا رہے۔پس ان دنوں میں خالص نمازوں اور عبادتوں اور دعاؤں کی طرف توجہ رکھیں کیونکہ یہی ہمارا یہاں جمع ہونے کا مقصد ہے۔جلسہ پر آنے والے ہر احمدی کو سب سے پہلے یہ بنیادی مقصد اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔دوسری بات جومیں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جلسہ کے دنوں میں سلام کو رواج دیں۔خدا تعالیٰ نے جو ہمیں احکام دیئے ہیں ان میں یہ بھی بڑا بنیادی حکم ہے اور آپس کے پیار و محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔پھر آنے والے مہمان یہ بھی یاد رکھیں کہ گومیزبان پر مہمان کا بہت حق ہے لیکن بعض ذمہ داریاں مہمان کی بھی ہیں۔ایک حکم ہمیں قرآن کریم میں سورۃ احزاب میں آیا ہے جو کہ آنحضرت ﷺ کے حوالے سے ہے لیکن یہ مہمان کے لئے ایک بنیادی حکم ہے جسے عمومی طور پر تو ہر مہمان کو جو کسی بھی مقصد کے لئے مہمان بن کر کسی کے ہاں جائے ہمیشہ یادرکھنا چاہئے لیکن جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کو خصوصیت سے یہ یاد رکھنا چاہئے۔کیونکہ جلسہ پر آنے والے مہمان ایک خاص مقصد کے لئے آتے ہیں اور خاص طور پر جماعتی نظام کے تحت ٹھہر نے والے مہمان تو اس کا خاص اہتمام کریں۔پہلی بات یہ ہے کہ بن بلائے مہمان نہ جاؤ۔آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ اس میں ہمارے سامنے ہے کہ ایک دعوت میں جب مقررہ تعداد سے زیادہ لوگ آپ کے ساتھ شامل ہو کر چلے اور ایک شخص زائد تھا جو ان لوگوں میں شامل ہو گیا، باتیں کرتا ہوا اس گھر تک پہنچ گیا جہاں کھانے کی دعوت دی گئی تھی۔تو آپ نے گھر والے سے اجازت لی کہ اس طرح میرے ساتھ یہ زائد شخص آ گیا ہے، اگر تم چاہو تو میرے ساتھ اندر داخل ہو جائے، اگر نہیں تو بغیر کسی تکلف اور پریشانی اور شرمندگی کے بتا دو تو میں اس کو کہوں گا کہ واپس چلا جائے۔(مسلم کتاب الاطعمة والاشربة باب ما يفعل الضيف اذا تبعه غیر من دعاه صاحب صاحب الطعام۔۔۔حدیث نمبر 5203) پس ایک تو یہ کہ باہر سے آنے والے یا درکھیں گو کہ جلسہ پر آئے ہیں، دعوت پر آئے ہیں، بغیر دعوت کے نہیں آئے لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جماعتی مہمان نوازی ایک معینہ مدت تک کے لئے ہے۔اس کے بعد ضد کر کے بعض لوگ ٹھہرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بات پھر بن بلائے والی بات اور بعد میں پھر تکلیف دینے والی بات بن جاتی ہے۔بعض لمبے عرصہ کی ٹکٹوں کی تاریخیں لے کر آتے ہیں اور اس کے بعد یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اب کیا کریں مجبوری ہے اور پھر اس عرصہ میں کام وغیرہ بھی کرتے ہیں۔تو اگر مجبوری ہے تو جو رقم کما رہے ہیں اس میں سے خرچ