خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 299
299 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 2008 اس طرح لگانی ہوں گی کہ جو چاہے گزر جائے لیکن اس جڑ کوکوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔کسی بھی حالت میں اس جڑ کو نقصان نہ پہنچے۔کیونکہ اس کو نقصان پہنچنا یا نمازوں میں کمزوری دکھانے کا مطلب یہ ہے کہ ایمان میں کمزوری پیدا ہو رہی ہے اور ایمان میں کمزوری جو پیدا ہوگئی تو خلافت سے تعلق بھی کمزور ہو گا۔پس ان دنوں میں جب آپ خاص دنوں میں جمع ہوئے ہیں تو اپنی نمازوں کی حفاظت کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق نمازیں پھر ہماری حفاظت کریں۔ہمارے ایمانوں میں مضبوطی پیدا ہو اور ہم اللہ تعالیٰ کا قرب پاتے ہوئے اس کے نام کے ہمیشہ وارث بنتے رہیں جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے مومنین سے کیا ہے۔نماز میں دعاؤں کے طریق اور اس کی حقیقت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : نماز تضرع اور انکسار سے ادا کرنی چاہئے اور اس میں دین اور دنیا کے لئے بہت دعا کرنی چاہئے“۔پھر آپ فرماتے ہیں: "وَالَّذِيْنَ هُم عَلى صَلَوتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ (المومنون : 10 ) یعنی ایسے لوگ ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں اور کبھی ناغہ نہیں کرتے اور انسان کی پیدائش کی اصل غرض بھی یہی ہے کہ وہ نماز کی حقیقت سیکھے۔یا درکھنا چاہئے کہ نماز ہی وہ شے ہے جس سے تمام مشکلات آسان ہو جاتی ہیں اور سب بلائیں دُور ہوتی ہیں۔مگر نماز سے وہ نماز مراد نہیں جو عام لوگ رسم کے طور پر پڑھتے ہیں۔بلکہ وہ نماز مراد ہے جس سے انسان کا دل گداز ہو جاتا ہے اور آستانہ احدیت پر گر کر ایسا محو ہو جاتا ہے کہ پگھلنے لگتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ نماز کی حفاظت اس واسطے نہیں کی جاتی کہ خدا کو ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ کو ہماری نمازوں کی کوئی ضرورت نہیں۔وہ تو غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِيْنَ ہے۔اس کو کسی کی حاجت نہیں بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان کو ضرورت ہے اور یہ ایک راز کی بات ہے کہ انسان خود اپنی بھلائی چاہتا ہے اور اس لئے وہ خدا سے مدد طلب کرتا ہے۔کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو جانا حقیقی بھلائی حاصل کر لینا ہے۔ایسے شخص کی اگر تمام دنیا دشمن ہو جائے اور اس کی ہلاکت کے در پے رہے تو اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اور خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی خاطر اگر لاکھوں کروڑوں انسان بھی اگر ہلاک کرنے پڑیں تو ہلاک کر دیتا ہے۔یادرکھونماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی“۔فرمایا: ” نماز تو ایسی چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بدعملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے، مگر اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگا ر ہے اس طرح کا خشوع وخضوع پیدا نہیں ہوسکتا۔اس لئے چاہئے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خالی نہ ہو۔پس یہ دن اللہ تعالیٰ نے پھر ہمیں میسر فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اپنی نمازوں کو سنوار میں اور دعاؤں میں دن رات گزاریں۔خدا تعالیٰ سے اُن انعاموں کے طالب ہوں ، وہ نمازیں خدا تعالیٰ ہمارے نصیب