خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 291
291 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم کر ملے تو محبت اور پیار سے انہوں نے مصافحہ اور معانقہ کیا اور حیرت سے پوچھا کہ اس وقت کہاں سے آگئے۔صبح کے تین بجے سحری کے وقت پہنچے تھے تو میں نے جب واقعات بیان کئے تو بیچارے بہت حیران ہوئے۔کچھ سبزی وغیرہ ان کے حوالے کی ، جو یہ ساتھ لے کر آئے تھے۔تازہ سبزی تھی وہ لے کر اندر چلے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اطلاع کی۔کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ تین بجے کے قریب قریب وقت تھا۔حضرت صاحب نے مجھے گول کمرے میں بلایا اور وہاں پہنچنے تک پر تکلف کھانا بھی موجود تھا۔میں اس ساعت کو اپنی عمر میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ایسا وقت تھا کبھی بھول نہیں سکتا۔کس محبت و شفقت سے بار بار فرماتے تھے کہ آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔میں عرض کرتا نہیں ، حضور تکلیف تو کوئی نہیں ہوئی، معلوم بھی نہیں ہوا۔مگر آپ بار بار فرماتے ہیں، راستہ بھول جانے کی پریشانی بہت ہوتی ہے۔آتے ہوئے راستہ بھول گئے تھے پیدل آ رہے تھے اور اس لئے دیر سے پہنچے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا راستہ بھول جانے کی بڑی پریشانی ہوتی ہے اور کھانا کھانے کے لئے تاکید فرمانے لگے۔کہتے ہیں مجھے آپ کے سامنے کھانا کھانے سے شرم آتی تھی۔میں ذرا ہچکچا رہا تھا آپ نے خود اپنے دست مبارک سے کھانا آگے کر کے فرمایا کہ کھاؤ، بھوک لگی ہوگی اور سفر میں تھکان بھی ہو جاتی ہے تو آخرمیں نے کھانا شروع کیا تو آپ نے فرمایا کہ خوب سیر ہو کر کھاؤ، شرم نہ کرو۔سفر کر کے آئے ہو، حضرت حامد علی صاحب بھی پاس بیٹھے تھے اور آپ بھی تشریف فرما تھے۔میں نے عرض کیا حضور آپ آرام فرما ئیں میں اب کھانا کھالوں گا۔حضرت اقدس نے محسوس کیا کہ آپ کی موجودگی میں تکلف نہ کروں۔فرمایا اچھا حامد علی تم اچھی طرح سے کھلاؤ اور یہاں ان کے لئے بستر ا بچھا دو تا کہ یہ آرام کر لیں اور اچھی طرح سے سو جائیں۔آپ تشریف لے گئے مگر تھوڑی دیر بعد ایک بستر الئے ہوئے پھر تشریف لے آئے۔میری حالت اس وقت عجیب تھی ایک طرف تو میں آپ کے اس سلوک سے نادم ہو رہا تھا کہ ایک واجب الاحترام ہستی اپنے ادنی غلام کے لئے کس مدارات میں مصروف ہے۔میں نے عذر کیا کہ حضور نے کیوں تکلیف فرمائی ہے۔فرمایا نہیں نہیں تکلیف کس بات کی آپ کو آج بہت تکلیف ہوئی ہے اچھی طرح سے آرام کرو۔غرض آپ خود بستر رکھ کر تشریف لے گئے اور حامد علی صاحب میرے پاس بیٹھے رہے اور محبت سے مجھے کھانا کھلایا اور پھر حضرت حافظ حامد علی صاحب نے فرمایا کہ آپ لیٹ جائیں میں آپ کی ٹانگیں دبا دوں۔تو میں نے بڑے شرمندہ ہوکر کہا نہیں میں نے نہیں دبوانی۔تو اس پر حضرت حافظ حامد علی صاحب نے کہا کہ حضرت صاحب نے مجھے فرمایا تھا کہ ذراد با دینا تھکے ہوں گے۔ان کی یہ باتیں سنتے ہی کہتے ہیں میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل گئے کہ اللہ اللہ کس شفقت اور محبت کے جذبات اس دل میں ہیں، اپنے خادموں کے لئے وہ کس درد کا احساس رکھتا ہے۔فجر کی نماز کے بعد جب آپ تشریف فرما ہوئے تو پھر مجھ سے دریافت فرمایا کہ نیند اچھی طرح آگئی تھی ؟ اب تھکان تو نہیں؟ غرض اس طرح پر اظہار شفقت فرمایا۔اور کہتے ہیں آپ کی شفقت اور محبت یہی چیز تھی جو مجھے ملازمت چھڑوا کر قادیان لے آئی۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود مرتبه شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔جلد اوّل صفحہ 146 تا149)