خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 290
خطبات مسرور جلد ششم 290 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 2008 1898ء کا واقعہ ہوگا۔مجھے حضرت مسیح موعود نے مسجد مبارک میں بٹھایا جو کہ اس وقت چھوٹی سی جگہ تھی۔فرمایا کہ آپ بیٹھیں میں آپ کے لئے کھا نالا تا ہوں۔یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے۔میرا خیال تھا کہ کسی خادم کے ہاتھ کھانا بھیج دیں گے۔مگر چند منٹ کے بعد جب کھڑ کی کھلی تو میں کیا دیکھتا ہوں اپنے ہاتھ سے سینی اٹھائے ہوئے ایک ٹرے میں کھانا رکھے ہوئے لائے ہیں۔مجھے دیکھ کر فرمایا کہ آپ کھانا کھائیے میں پانی لاتا ہوں۔بے اختیار رقت سے میرے آنسو نکل آئے کہ جب حضرت ہمارے مقتداء پیشوا ہو کر ہماری یہ خدمت کرتے ہیں تو ہمیں آپس میں کس قدر خدمت کرنی چاہئے۔“ (ماخوذ از ذکر حبیب - صفحہ 327 - مصنفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب مطبوعہ قادیان دسمبر 1936ء) حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر بہت سے آدمی جمع تھے جن کے پاس کوئی گرم کپڑے وغیرہ نہیں تھے۔بستر لحاف کپڑے وغیرہ نہیں تھے۔ایک شخص نبی بخش نمبر دار سا کن بٹالہ نے اندر سے لحاف اور بچھونے وغیرہ منگوانے شروع کئے اور مہمانوں کو دیتارہا۔کہتے ہیں عشاء کے بعد حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بغلوں میں ہاتھ دیئے بیٹھے ہوئے تھے اور ایک بیٹا ان کا جو غالباً حضرت خلیفہ ثانی تھے ، پاس لیٹے ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا چوغہ ان کے اوپر تھا۔تو پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا لحاف، بچھونا ، بستر بھی طلب کرنے پر مہمانوں کے لئے بھیج دیا ہے۔تو میں نے عرض کی کہ حضور کے پاس کوئی پارچہ نہیں رہا اور سردی بھی بہت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مہمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے اور ہمارا کیا ہے، رات گزر جائے گی۔نیچے آ کر میں نے نبی بخش نمبر دار کو بہت برا بھلا کہا کہ تم حضرت صاحب کا لحاف اور بچھونا بھی لے آئے ہو۔وہ شرمند ہوا اور کہنے لگا کہ جس کو دے چکا ہوں اب اس سے کس طرح لوں۔کہتے ہیں پھر میں مفتی فضل الرحمن یا کسی اور سے ٹھیک طرح یاد نہیں ، بستر اور لحاف لے کر آیا۔تو آپ نے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ کسی اور مہمان کو دے دو، مجھے تو اکثر نیند بھی نہیں آتی اور میرے اصرار پر بھی آپ نے نہیں لیا اور فرمایاکسی اور مہمان کو دے دو۔( اصحاب احمد۔جلد 4 صفحہ 180 مطبوعہ قادیان) حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی لکھتے ہیں غالباً پہلی مرتبہ 1893ء کے مارچ کے مہینے کے اواخر میں قادیان آیا۔رمضان کا آغاز تھا اور لوگ اس وقت اٹھ رہے تھے، مہمان خانے کی کائنات صرف دو کوٹھڑیاں اور ایک دالان تھا۔یعنی کل لنگر خانہ اور دارالضیافت کو ٹھڑیاں تھیں اور اس کا ایک صحن تھا جو مطب والا ہے۔اس جگہ جہاں مطب تھا باقی موجودہ مہمان خانہ تک پلیٹ فارم تھا۔حضرت حافظ حامد علی مرحوم کو خبر ہوئی کہ کوئی مہمان آیا ہے اس وقت مہمان خانے کے مہتم کہو یا داروغہ یا انچارج جو بھی مہمانوں کے تھے سب کچھ وہی تھے اور وہ مجھے جاننے والے تھے جب وہ آ