خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 284
284 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم ہوں گے۔لیکن دلوں کو پھیر نے کی طاقت سوائے خدا تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں ہے۔اس لئے حقیقت میں یہ کام خدا تعالیٰ خود کرتا ہے، کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی اس زبر دست مدد کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے فرمایا جب اس طرح ہوگا، دلوں کو پھیرے گا تو لوگ آئیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا کہ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ۔( تذکرہ صفحہ 39 ایڈیشن چہارم 2004 ، مطبوعہ ربوہ ) که یعنی لوگ دور دراز جگہوں سے تیرے پاس آئیں گے۔پس جب اللہ تعالیٰ دین قبول کرنے والوں کو، دین سیکھنے والوں کو اور دین کی تحقیق کرنے والوں کو بھیجے گا تو فرمایا پھر گھبرانا نہیں بلکہ اعلیٰ خلق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑنا تو یہ اہمیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آنے والے مہمانوں کی تھی اور آپ کے لئے آنے والے مہمانوں کی ہے۔جلسوں کا انعقاد بھی آپ نے اس لئے فرمایا تھا کہ دین اور روحانیت میں ترقی ہو اور اس کے لئے لوگ جمع ہوں۔پس یہ مہمان جو جلسے کے لئے آتے ہیں اور آ رہے ہیں ان کی ہر رنگ میں خدمت کرنا، ہر کارکن کا جس نے اپنے آپ کو اس مقصد کے لئے پیش کیا ہے اور جس کی ڈیوٹی مختلف شعبہ جات میں لگائی گئی ہے اس کا فرض ہے کہ پوری توجہ سے ڈیوٹی دے۔یہ مہمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے آ رہے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہمیں بھی اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ ن کو دیکھ کر نہ گھبرانا اور نہ ہی بدخلقتی دکھانی ہے۔آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ سے ہمیں مہمان نوازی کے عجیب نمونے نظر آتے ہیں۔اب دیکھیں کیسے کیسے عظیم نمونے ہیں کہ مہمان بستر گندا کر گیا ہے تو خود اپنے ہاتھ سے آنحضرت ﷺ اس کو دھورہے ہیں۔نجاشی کے بھیجے ہوئے وفد کی خود اپنے ہاتھ سے خدمت کر رہے ہیں۔صحابہ آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ ہمیں کام کرنے دیں اور موقع دیں، آپ کیوں تکلیف فرماتے ہیں۔تو آنحضرت ﷺے جواب میں فرماتے ہیں ، ان لوگوں نے مسلمانوں کی جوعزت اور خدمت کی ہے اب میرا فرض بنتا ہے کہ میں اپنے ہاتھ سے ان کی خدمت کروں۔پھر مہمان آتا ہے، ایک بکری کا دودھ پیتا ہے، اور مانگتا ہے، آپ پیش فرماتے چلے جاتے ہیں حتی کہ سات بکریوں کا دودھ پی جاتا ہے لیکن آپ نے نہیں فرمایا کہ یہ کیا کر رہے ہو تمہارا پیٹ ہے یا کیا چیز ہے؟ دیتے چلے جاتے ہیں۔(سنن ترمذی ابواب الاطعمته باب ما جاء ان المؤمن یا کل فی معنی واحد حدیث نمبر 1819) صحابہ کی اس طرح تربیت فرمائی کہ گھر والے مہمان کی خاطر بچوں کو بھوکا سلا دیتے ہیں کہ کھانا کم ہے اور خود بھی اندھیرا کر کے صرف ظاہر منہ سے ایسی آوازیں نکالتے ہیں جیسے کھانا کھا رہے ہیں تا کہ مہمان محسوس کرے کہ یہ