خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 14
خطبات مسرور جلد ششم 14 خطبہ جمعہ فرموده 11 جنوری 2008 اس زمانے میں ظاہر ہوئیں۔پس اس کے الکتب ہونے کا یہ کمال ہے۔اس میں تمام علوم بیان فرما کر اصل حالت میں آج تک قائم رکھا اور اس بات کا بھی خود اعلان فرمایا کہ اس کتاب کو ، اس تعلیم کو جو عظیم رسول ﷺ پراتری ہے میں محفوظ رکھوں گا اور کوئی نہیں جو اس کی حالت کو بدل سکے۔جیسا کہ فرماتا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر: (10) کہ اس ذکر یعنی قرآن کریم کو ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔اور یہ حفاظت کے سامان پہلے دن سے ہی فرما دیئے اور آنحضرت علی کے زمانے میں ہی لکھ کر محفوظ کر لی گئی۔قرآن کریم کی تمام آیات یا قرآن کریم محفوظ کر لیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ: اس کتاب کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ رہیں گے۔سو تیرہ سو برس سے اس پیشین گوئی کی صداقت ظاہر ہورہی ہے۔اب تک قرآن شریف میں پہلی کتابوں کی طرح کوئی مشر کا نہ تعلیم ملنے نہیں پائی اور آئندہ بھی عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ اس میں کسی نوع کی مشر کا نہ تعلیم مخلوط ہو سکے شامل ہو سکے کیونکہ لاکھوں مسلمان اس کے حافظ ہیں۔ہزار ہا اس کی تفسیر میں ہیں۔پانچ وقت اس کی آیات نمازوں میں پڑھی جاتی ہیں۔ہر روز اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔اسی طرح تمام ملکوں میں اس کا پھیل جانا، کروڑ ہا نسخے اس کے دنیا میں موجود ہونا، ہر یک قوم کا اس کی تعلیم سے مطلع ہو جانا یہ سب امور ایسے ہیں کہ جن کے لحاظ سے عقل اس بات پر قطع واجب کرتی ہے کہ آئندہ بھی کسی نوع کا تغیر و تبدل قرآن شریف میں واقع ہونا ممتنع ہے اور محال ہے۔(براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 102 حاشیہ) یعنی اس بات کی یہ دلیل ہے کہ آئندہ بھی کبھی اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق اس کو آج تک بلکہ اُس وقت جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اس پر بھی مزید سو سال گزرچکے ہیں، قرآن کو محفوظ رکھا ہوا ہے۔آج بھی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آئندہ بھی عقل تسلیم نہیں کر سکتی کہ اس کی تعلیم میں کوئی رد و بدل ہو سکے۔وہ خدا جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اس کی حفاظت بھی فرماتا رہے گا۔فی زمانہ دجال نے ایک یہ چال چلی کہ اس میں ردو بدل کر سکے لیکن یہ کوششیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔جیسا کہ پہلے بھی میں ایک دو دفعہ ذکر کر چکا ہوں۔اس قرآن کریم میں رد و بدل کا یا اس کے مقابل پر نیا قرآن کریم پیش کرنے کی جو عیسائیوں کی ایک چال تھی، بہت بڑا خوفناک منصوبہ تھا اور اس کو پہلی دفعہ انہوں نے فرقان الحق“ کے نام سے شائع کیا۔خود ہی اپنے پاس سے الفاظ بنا کر، کچھ قرآن کریم کے الفاظ لے کر کچھ اپنے پاس سے ملا کر،