خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 283
283 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم وقت خلافت کا مرکز یہاں ہونے کی وجہ سے لندن کے خدام اور بعض دوسرے کام کرنے والے جو حفاظت کی ڈیوٹیاں دیتے ہیں یا مستقل لنگر میں ڈیوٹیاں دے رہے ہیں یا دوسرے فنکشنز میں اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، فنکشنز بڑی تعداد میں ہو رہے ہوتے ہیں۔دوسرے ممالک کے افراد جماعت کی نسبت یہاں کے لوگ زیادہ اور مستقل کام کرنے والے ہیں اور گزشتہ 24 سال سے نہایت احسن رنگ میں اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ربوہ اور قادیان میں تو اس کام کے لئے مستقل عملہ ہے لیکن یہاں لنگر کا بھی بہت سا حصہ اور مسجد فضل کی جو متفرق ڈیوٹیاں ہیں یہ والنٹیئر زانصار اور خدام اللہ تعالیٰ کے فضل سے کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو بھی اس خدمت کی بہترین جزا دے۔اس ملک میں اور پھر اس مہنگے شہر میں رہتے ہوئے اپنے وقت اور مال کی قربانی کر رہے ہوتے ہیں تو یقیناً یہ سب کارکنان کا جماعت اور خلافت سے وفا اور اخلاص کا تعلق ہے جس کی وجہ سے وہ یہ کام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ آئندہ بھی ان کو یہ توفیق دیتا چلا جائے۔جماعت کے جلسے اور ان کے لنگر کے جاری نظام سے غیر بھی بہت متاثر ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی جولوگ قادیان آئے تھے ، بعض غیر از جماعت اس لنگر کے نظام کو اور مہمان نوازی کو دیکھ کر اور خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مہمان نوازی کو دیکھ کر بڑے متاثر ہوتے تھے۔آج کل بھی جلسوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جاری کردہ لنگر لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔اس دفعہ جب میں افریقہ کے دورے پر گیا ہوں تو بعض ممالک میں جہاں جلسے ہوئے خلافت جوبلی کے حوالے سے لوگوں کی آمد بھی زیادہ تھی تو اتنے مہمانوں کو کھانا ملتے دیکھ کر کئی غیر جو وہاں آئے ہوئے تھے وہ اس بات سے بہت متاثر تھے اور ان کا حیرت کا اظہار تھا۔اور بعض نے تو اسی بات کو خدائی جماعت ہونے کی دلیل سمجھ لیا کہ اس طرح کی مہمان نوازی تو ہم نے کہیں نہیں دیکھی۔تو یہ سب اصل میں آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کی تربیت کی وجہ سے ہے جنہوں نے ہمیں آنحضرت ﷺ کے اسوہ پر چلاتے ہوئے یہ راستے دکھائے۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں یہ آپ کی مہمان نوازی اور سخاوت تھی جس نے کئی کافروں کو حق پہچاننے کی توفیق عطا فرمائی۔پس مہمان نوازی ایک ایسا خلق ہے جو دین اور دنیا دونوں طرح سے دوسروں کو قریب لانے کا باعث بنتا ہے اور اس زمانہ میں کیونکہ دین کی تجدید کے لئے اور بندے کو اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانے والا بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے قریب لانے کے لئے اعلیٰ اخلاق قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے اور آپ سے یہ بھی وعدہ فرمایا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ ( تذکرہ صفحہ 260 ایڈیشن چہارم 2004 ، مطبوعہ ربوہ ) یعنی یہ سب کام جو سی محمدی کے سپرد ہوئے بظا ہر آپ اور آپ کے بعد نظام خلافت کے ذریعہ پورے ہور ہے