خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 278
278 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جولائی 2008 اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تقریب بھی جماعت کے تعارف اور تبلیغ کا ذریعہ بنی۔یہاں بھی بعض پادریوں نے میری تقریر اسلام کی تعلیم عبادت گاہوں کے حوالے سے پر بڑی حیرت کا اظہار کیا۔ایک احمدی نے مجھے بتایا کہ ایک عیسائی جو اس تقریب میں موجود تھے، میری تقریر کے بعد رو پڑے کہ اصل میں تو یہ تعلیم ہے جو فطرت کے مطابق ہے۔اسلام کی تعلیم تو ہر معاملے میں بڑی جامع ہے اگر اس کو صحیح طور پر اگلے کو پہنچایا جائے۔اگر انسان نیک فطرت ہو تو اس کے لئے کوئی راہ فرار نہیں بجز اس کے تسلیم کرنے کے۔ایک افغانی دوست جو عرصہ سے جماعت سے تعارف میں تھے۔اس تقریب کے بعد مجھے ملے اور ان کا رورو کے بُرا حال تھا۔بعد میں ان کے احمدی دوست نے بتایا جن کے ذریعہ سے وہ ملنے کے لئے آئے تھے کہ وہ کہتے ہیں کہ آج میرے لئے اب اور کوئی روک نہیں چاہتے ، اس لئے آج ہی میں بیعت کرتا ہوں۔اس طرح اور بیعتیں بھی ہوئیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ملک کے دورے احمدیت اور اسلام کے حقیقی پیغام کو پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ اس خدا کے وعدے کی وجہ سے ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایا تھا کہ میں تجھے عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔یہ الہی تقدیر ہے اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔بد قسمت مولوی جتنا چاہے زور لگالیں، ان کے مونہوں کی بک بک کے سوا اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں جو وہ کہتے ہیں۔احمدیوں کو عارضی تکلیفیں دے کر خوش ہورہے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر بھی ان کے خلاف چل چکی ہے اور یہ انشاء اللہ تعالیٰ اپنے بد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔اس مسجد کے افتتاح سے میڈیا کے ذریعہ جو جماعت کا تعارف ہوا ہے، اس کی کچھ تھوڑی سی تفصیل بتادوں کہ نو (9) ٹیلیویژن سٹیشنز نے کیلگری مسجد کے افتتاح کو کوریج دی جن کے دیکھنے والوں کی تعداد 3۔1 ملین ہے۔31 لاکھ لوگوں تک پیغام پہنچا۔9 ریڈیو سٹیشنز نے مسجد کے افتتاح کو کوریج دی۔23 لاکھ لوگوں تک پیغام پہنچا۔پرنٹ میڈیا میں پورے کینیڈا کے مختلف شہروں سے نکلنے والے اخبارات نے وسیع پیمانے پر کوریج دی۔اخبار پڑھنے والوں کی تعداد 40 لاکھ ہے۔ان ملکی اخبارات کے علاوہ بہت سارے غیر ملکی اخبارات نے بھی کوریج دی ہے۔آسٹریلیا، جرمنی ، نیوزی لینڈ، انڈیا، پاکستان، پاکستان میں شاید مخالفت میں خبر آئی ہو ) اٹلی، برطانیہ، امریکہ، بلجیم، متحدہ عرب امارات اور کینیا اور مسلمان اور عرب دنیا کے 41 اخباروں نے اس کی خبر دی ہے۔ایران ، ترکی ، سعودی عرب، اردن، فله ، فلسطین، لبنان۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تعارف اس طرح کرایا گیا کہ اسلام کا ایک فرقہ ہے جنہوں نے مسجد بنائی ہے۔بہر حال ایک رو چلی ہے، کسی رنگ میں پیغام پہنچا ہے، اگر مخالفت میں پیغام پہنچے تو وہ بھی جیسا کہ میں نے بتایا بعض دفعہ بعض دفعہ نہیں بلکہ یقینی طور پر ترقی کا باعث بنتا ہے اور دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی 130 مختلف سائٹس نے اس کو کوریج دی ہے۔