خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 13
خطبات مسرور جلد ششم 13 خطبه جمعه فرموده 11 جنوری 2008 اس دعا سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ علم ہو چکا تھا کہ ایک زمانے میں ایک ایسا نبی مبعوث ہونا ہے جس کی تعلیم قیامت تک رہنی ہے۔اس لئے دعا کی کہ وہ جن میں مبعوث ہو اور جس زمانے کے لئے مبعوث ہو، انہیں کتاب کی تعلیم دے۔یہ تمام تعلیم ، یہ تمام آیات یکجا تحریری صورت میں ہوں۔اصل میں تو یہ دعا اللہ تعالیٰ نے ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سکھائی تھی کہ جو عظیم رسول مبعوث ہونا ہے اس پر جو شریعت نازل ہوئی ہے وہ تمام لکھی ہوئی صورت میں ہوگی اور اس طرح لکھی ہوگی کہ قیامت تک اس کا شوشہ بھی ادھر اُدھر نہیں ہوسکتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج صرف یہ قرآن کریم ہی ہے جو مسلمانوں کو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد لکھی ہوئی صورت میں ملا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے حفاظ پیدا کئے بلکہ آج تک پیدا ہوتے چلے جا رہے ہیں جن کے دل و دماغ پر اور یادداشت میں قرآن کریم کا ایک ایک لفظ اور حرف لکھا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت اللہ کے ذریعہ سے جو تعلیم جاری فرمائی اس کو ظاہری کتاب میں بھی محفوظ کر لیا اور دل ودماغ میں بھی نقش کر دیا۔جس طرح اس کی حفاظت کے سامان فرمائے کسی اور نبی پر اترنے والی آیات اور احکامات کی حفاظت نہیں کی۔کوئی کتاب علاوہ قرآن کریم کے یہ دعوی نہیں کر سکتی کہ اس کا لفظ لفظ الہامی شکل میں قائم ہے جبکہ قرآن کریم کا یہ دعوی ہے کہ یہ پہلے دن سے جس طرح اُتر ا اسی طرح محفوظ ہے۔بلکہ زیرز بر پیش، کہاں رکنا ہے، کہاں نہیں رکنا، اس حد تک تفصیل سے قرآن کی حفاظت کا خدا تعالیٰ نے انتظام فرمایا ہے۔تو یہ ہے اس کتاب کی خوبی جو اس رسول پر اتری جس پر شریعت کامل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدہ :4) یعنی میں نے تمہارے فائدہ کے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر احسان پورا کر دیا ہے اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا اور تمام نعمتیں تمہیں عطا فرما دی ہیں۔پس یہ اعلان ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا۔یہ جہاں حضرت ابراہیم کی قبولیت دعا کا بھی نشان ہے کہ اس عظیم رسول پر تمام نعمتیں مکمل ہو چکی ہیں ، تمام احکام جمع ہو گئے ہیں، تمام تاریخی واقعات جمع کر دیئے گئے ہیں، سابقہ شریعتوں کا ذکر بھی کر دیا گیا ہے۔شریعت کے تمام احکام کے اعلیٰ معیار بتا دیئے گئے ہیں جن سے تمہاری شریعت کامل اور مکمل ہو گئی ہے۔یہ اعلان اللہ تعالیٰ نے کیا۔کوئی سابقہ شریعت اب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔کوئی سابقہ کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور حقیقت میں یہی ایک کتاب ہے جو الکتب کہلانے کی مستحق ہے۔اور پھر صرف شرعی باتیں ہی نہیں، مذہبی باتیں نہیں علمی اور سائنسی باتیں بھی بیان کیں۔جو سابقہ شریعتوں کے لوگوں کے لئے سمجھنا تو دور کی بات ہے خود آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی بعض باتیں شاید صرف آنحضرت کے علاوہ کوئی نہ سمجھتا ہو۔جو ایسی باتیں اور مستقبل کی خبریں تھیں جو