خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 273 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 273

273 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم اس بات پر خیال آیا کہ یہودیوں نے جو ہمارے حق میں بیان دیا ہے تو شاید مولوی یہ شور مچائے کہ دیکھو کہ ہم پہلے ہی کہتے تھے کہ قادیانی اور یہودی ایک ہیں۔لیکن وہ اس بات کو بھول جائیں گے کہ ہماری مخالفت اگر ہے تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک عاجز بندے کو ہم خدا نہیں مانتے۔تو بہر حال یہ ان مخالفین کا کام ہے، مولوی کا کام ہے کئے جائیں یہی ان سے توقع ہے۔اس ممبر اسمبلی نے ہمارے خلاف آواز اٹھائی تو خود عیسائیوں اور دوسرے مذاہب اور ہر طبقے میں اس نے ایک ایسی فضا پیدا کر دی جو ہمارے حق میں تھی اور جیسا کہ میں نے کہا ویب سائٹس اور اخباروں میں بحث شروع ہوگئی۔اور اس وجہ سے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اور جماعت کا تعارف بھی خوب ہوا۔اس کی وجہ سے اخباروں نے جلسے اور خلافت جوبلی کے حوالے سے ہماری خوب خبریں شائع کیں۔لیکن جو تعارف اور مشہوری اس مخالفت کی وجہ سے ہوئی، جیسا کہ میں نے کہا اگر وہ خاموشی سے ہو جاتا تو اس طرح نہ ہوتی۔تو یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے طریقے جماعت کے تعارف کے کہ مخالف کی جو کوششیں ہمیں نیچا دکھانے کے لئے ہوتی ہیں وہی ہماری شہرت اور تعارف کا باعث بن جاتی ہیں۔آج پاکستان اور انڈو نیشیایا بنگلہ دیش یا ہندوستان کے بعض مسلم اکثریت کے علاقوں میں خاص طور پر حیدر آباد دکن میں جماعت کی مخالفت زوروں پر ہے۔اس سے ان ملکوں میں بھی اور دنیا میں بھی جماعت کا تعارف مزید بڑھ رہا ہے۔بعض ہندوؤں کو ، انتظامیہ کو اور دوسرے لوگوں کو ہندوستان میں جماعت کا تعارف نہیں تھا۔ان کو وہاں مخالفت سے مزید تعارف پیدا ہوا ہے۔اب یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ مخالف یا دشمن جو حربہ بھی استعمال کرے گا خدا تعالیٰ اسی میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو دنیا میں مزید پھیلانے اور آپ کی عزت کے سامان پیدا کر دے گا اور کر دیتا ہے۔افراد جماعت کو بعض دفعہ جذبات کی یا مال کی یا کبھی جان کی بھی قربانی دینی پڑتی ہے لیکن یہ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ان قربانی کرنے والوں کی ذات بھی اور ان کے خاندان بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں اور فضلوں کے وارث بنتے ہیں اور جماعتی طور پر بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں کے سامان پیدا فرما دیتا ہے۔اس حوالے سے مزید جماعت کا تعارف ہوتا ہے۔تو جیسا کہ میں نے کہا اخبارات نے اس حوالے سے جماعت کا خوب تعارف کروایا اور ہمارے امریکہ کے جلسہ کی اخباروں اور دوسرے میڈیا نے خبریں دیں۔انٹرویو لینے کے لئے نمائندے بھی آئے ، جلسوں میں شامل بھی ہوتے رہے، میرے ساتھ علیحدہ وقت لے کر بھی ایک نمائندے نے انٹرویو کیا، سوال کئے، پھر انہیں شائع بھی کیا۔یہ ہمیں مانا پڑتا ہے کہ جو بھی صورتحال ہو اللہ تعالیٰ نے ایسی ہوا چلا ئی تھی کہ جو کچھ کہا انہوں نے بغیر کسی کانٹ چھانٹ کے اس کو شائع بھی کیا۔بعض باتیں ان کے مذہب اور عقیدے کے خلاف بھی تھیں۔پنسلوانیا کے ایک اخبار Lancaster Intelligence Journal کے نمائندہ نے میرے سے جو انٹر ویولیا تھا اور اس کو