خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 11

خطبات مسرور جلد ششم 11 خطبه جمعه فرموده 4 جنوری 2008 نمبر ایک سیالکوٹ نمبر دو ،گوجرانوالہ نمبر تین ، شیخو پوره چار، فیصل آباد پانچ ، راولپنڈی چھ ، میر پور خاص سات، سرگودھا آٹھ ، نارووال نو اور حیدر آباد دس۔اللہ تعالیٰ ان تمام مخلصین اور قربانیاں کرنے والوں کو بے انتہا اجر دے۔ان کے مال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے۔جو قر بانیاں کرنے والے ہیں وہ قربانیوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے کسی کے حوالے سے ایسے لوگوں کے بارے میں جو قر بانیوں میں بہت بڑھ رہے ہیں ایک دفعہ یہ کہا تھا کہ ان کے اخلاص کو دیکھ کے ڈر لگتا ہے۔اور یہ اخلاص میں بڑھنے والے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب دنیا کے ہر ملک میں پیدا ہورہے ہیں۔ان کے اخلاص سے یہ ڈر ہے کہ اخلاص کی وجہ سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والے نہ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔اپنے وعدے کے مطابق جزائے کبیر عطا فرمائے۔ان مخلصین کی قربانی کی روح آگے جاگ لگاتی چلی جائے اور ایسے قربانی کرنے والے پیدا ہوتے چلے جائیں جو اس قربانی کی روح کو کبھی مرنے نہ دیں۔کبھی ماندہ نہ ہوں اور کبھی نہ تھکیں۔ایسے نمونے بکھیرتے چلے جائیں کہ آئندہ آنے والوں کے دل ہمیشہ آپ کے لئے نیک جذبات اور دعاؤں سے بھرے رہیں اور آپ کے لئے دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے جنہوں نے ایسے نیک نمونے قائم کر کے آئندہ نسلوں میں بھی وہ روح قائم کی اور پیدا کی جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی روح تھی۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔الفضل انٹر نیشنل جلد 15 شمارہ 4۔مورخہ 25 جنوری تا 31 جنوری 2008 صفحہ 8-5)