خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 247

خطبات مسرور جلد ششم 247 خطبه جمعه فرموده 20 جون 2008 ہم میں سے ہر ایک کے ذہن میں آنحضرت ﷺ کے اُن الفاظ کی جگالی ہوتی رہنی چاہئے جو آپ نے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمائے تھے۔فرمایا کہ: اے لوگو! تمہارا خدا ایک ہے، تمہارا باپ ایک ہے۔یادرکھ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کوکسی عربی پر اور کسی سرخ و سفید رنگ والے کو کسی سیاہ رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو کسی سرخ وسفید والے پر کسی طرح کی کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ہاں تقویٰ اور صلاحیت وجہ ترجیح اور فضیلت ہے۔( مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحہ 760 باب حدیث رجل من اصحاب النبی ﷺ حدیث نمبر 23885 عالم الكتب بيروت لبنان 1998ء) تو یہ الفاظ تھے جو آپ نے پر زور اور بڑی شان کے ساتھ ادا فرمائے اور پھر لوگوں سے پوچھا کہ ” کیا میں نے اپنا حق ادا کر دیا ہے؟"۔پس افریقن بھائیوں اور بہنوں کو بھی ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان پر کسی قسم کی زیادتی ہوئی ہے، تب بھی وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ کسی طرح بھی کمتر ہیں۔خلافت کے ساتھ ان کا تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ساتھ ان کا تعلق ہے۔آنحضرت ﷺ کے ساتھ ان کا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا تعلق ہے اور ان کے دلوں میں تقویٰ ہے تو کوئی دنیا کی طاقت ان کو کمتر ثابت نہیں کر سکتی۔خدا اور اس کے رسول نے جس کو یہ مقام دے دیا ہے، اُس مقام کو کوئی دنیاوی طاقت چھین نہیں سکتی۔لیکن اس مقام کے حصول کے لئے شرط تقوی میں ترقی ہے۔پس تقویٰ میں ترقی کریں، تبلیغ کے میدان میں آگے بڑھیں اور اپنی کم تعداد کو اکثریت میں بدل دیں اور پھر تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے پاکستانیوں کے لئے تقویٰ اور اعلیٰ اخلاق کے نمونے قائم کریں۔ہمیشہ یادرکھیں کہ شکووں سے مسئلے حل نہیں ہوتے ، آپس میں مل بیٹھ کر مسئلے حل ہونے چاہئیں۔عہد یداران سے بھی میں کہتا ہوں کہ وہ اس انعام کی قدر کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خادم بنیں گے تو مخدوم کہلائیں گے۔اپنے اندر وسعت حوصلہ اور برداشت پیدا کریں۔ایک احمدی جب آپ کے پاس آتا ہے چاہے وہ کسی قوم کا ہو، اس کی بات غور سے سنیں اور اسے تسلی دلائیں۔اگر مصروفیت کی وجہ سے فوری طور پر وقت نہیں دے سکتے تو کوئی اور وقت دیں اور اگر کبھی بھی وقت نہیں دے سکتے تو پھر بہتر ہے کہ ایسے عہدیدار خدمت سے معذرت کر لیں۔میں خود باوجود مختلف قسم کی مصروفیات کے، کاموں کی زیادتی کے وقت نکال کر صرف اس لئے ذاتی طور پر بعض بڑھی ہوئی رنجشوں کو سن لیتا ہوں اور حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں تا کہ ان میں کسی طرح آپس میں محبت اور پیار پیدا ہو۔وہ حسین معاشرہ قائم ہو جس کے قائم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے تھے۔لیکن اگر عہد یداران سنے کا حوصلہ رکھنے والے ہوں تو میرا خیال ہے کہ ان معاملات میں میرا یہ کام آدھا ہوسکتا ہے۔