خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 246 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 246

خطبات مسرور جلد ششم 246 خطبه جمعه فرمود و 20 جون 2008 انہیں یعنی نئے آنے والوں کو خواہ وہ کسی قوم کے بھی ہوں اپنے اندر سموئیں ، جذب کریں، ان کو فعال حصہ بنائیں، بھائی چارے کو رواج دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ مواخات میں ایک دوسرے کے لئے نمونہ بن جائیں اور مواخات کا اعلیٰ ترین نمونہ ہمارے سامنے کیا ہے؟ وہ نمونہ ہے انصار مدینہ اور مہاجرین کا نمونہ۔ایسا اعلیٰ نمونہ کہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس کی تعریف فرمائی ہے۔وہ نہ صرف ایک دوسرے کی تکلیفوں کو اپنی تکلیف سمجھتے تھے بلکہ ایک دوسرے کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار رہتے تھے۔جب انہوں نے سچائی کو اختیار کیا تو ان کے ہر عمل سے سچائی ظاہر ہونے لگی۔ان کی عاجزی، محبت اور سچائی نے پھر وہ نمونے دکھائے کہ ایک دنیا ان کی طرف کھنچی چلی آئی۔پس اگر دنیا کو اپنی طرف کھینچنا ہے تو ہر طرح کے تکبر نخوت ، اور بدظنی کو دور کرتے ہوئے ایک دوسرے کے جذبات، احساسات اور ضروریات کا خیال رکھنا ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ دینی مہمات میں سرگرمی دکھا ئیں۔تو اس کا کیا مطلب ہے۔سب سے بڑی مہم تو ہمارے سامنے تمام دنیا کو آنحضرت بہو کے جھنڈے تلے لانے کی پیش ہے جو ہم نے سر کرنی ہے۔اگر ہم آپس میں دلوں میں ڈوریاں لئے بیٹھے ہوں گے تو تبلیغ کے کام کو کس طرح سرانجام دیں گے۔ہمارے کاموں میں برکت کس طرح پڑے گی۔پس چاہئے کہ ایشین ہو یا افریقن امریکن ہوں یا سفید فام ہوں اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں آکر ہمارے اندر پاک تبدیلی پیدا نہیں ہوئی اور اگر اس کے لئے ہم نے مسلسل کوشش نہیں کی اور مسلسل کوشش نہیں کر رہے تو ہم اپنے مقصد سے دور ہٹ رہے ہیں۔تبلیغ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ہمیں اپنے اخلاق کے معیار بھی بہتر کرنے ہوں گے اور اپنی غلط فہمیوں کو بھی دور کرنا ہوگا تبھی ہم ایک حسین معاشرہ قائم کر سکتے ہیں جو تقویٰ پر چلنے والوں کا معاشرہ ہوگا۔گزشتہ دنوں مجھے یہاں ملاقات میں ایک خاندان ملا جسے دیکھ کر بے انتہا خوشی ہوئی ، بے اختیار دل میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے جذبات پیدا ہوئے۔اس خاندان میں افریقن امریکن بھی تھے۔سفید امریکن بھی تھے اور ایک پاکستانی بہو بھی تھی۔تو یہ خاندان ہے جو احمدیت اور اسلام کی حقیقی تصویر ہے۔بلکہ ان کو بھی میں نے یہی کہا تھا کہ تم لوگ حقیقت میں احمدیت کی صحیح تصویر ہو کیونکہ احمدیت تو دلوں کو جوڑنے کے لئے آئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد تو خدا تعالیٰ کی پہچان کروانا اور بندے کو بندے کے ساتھ پیار و محبت کے تعلق کو قائم کروانا تھا اور ہے۔اگر کسی احمدی کے دل میں یہ خیال نہیں تو اس کا خلافت احمدیہ کے قیام اور مضبوطی کے لئے قربانی کا دعوی بھی عبث ہے، فضول ہے، بیکار ہے۔پس یہ دونوں طرف کے لوگوں کا کام ہے، پاکستانی احمدیوں کا بھی اور افریقن امریکن احمدیوں کا بھی کہ اس خلیج کو پُر کریں۔وہ معاشرہ قائم کریں جو تقوی پرمبنی معاشرہ ہو۔