خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 223
خطبات مسرور جلد ششم 223 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 جون 2008 ماننے پر مجبور ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اصل رازق ہے۔اور اس عارضی زندگی کے لئے جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر اس قدر مہربان ہے تو جو ہمیشہ کی زندگی ہے اس کے لئے رزق کیوں مہیا نہیں کرے گا۔پس اللہ کی عبادت اور نیک اعمال بھی ایسا ہی رزق ہیں جو ہمیشہ کی زندگی کے لئے ضروری ہیں اور انسان کو جو اشرف المخلوقات ہے اور مخلوق میں صرف اسی کے ساتھ دائمی اور آخری زندگی کا وعدہ ہے تو اسے اپنی روحانیت کی طرف اس وجہ سے توجہ دینی چاہئے۔ایک مومن کے لئے قرآن کریم نے کھول کر رزق کے حصول کے ذریعے بتائے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ رزق معیار کے لحاظ سے بھی اور مقدار کے لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ ہمیں بھیجا ہے اور انسانوں کو قرآن کریم نے مختلف جگہوں پر اس طرف توجہ دلائی کہ تمہارے لئے روحانی رزق اُتارا گیا ہے اس کی قدر کرو کیونکہ یہ ناقدری جب حد سے بڑھتی ہے تو پھر بعض دفعہ اس دنیا میں ہی انسان مادی رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتا ہے کہ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيْهَا رِزْقُهَارَغَدَا مَنْ كُلَّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِالْعُمِ اللهِ فَاذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُوْنَ (النحل: 113) اور اللہ ایک ایسی بستی کی مثال بیان کرتا ہے جو بڑی پُر امن اور مطمئن تھی۔اس کے پاس ہر طرف سے اس کا رزق با فراغت آتا تھا۔پھر اس کے مکینوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا اُن کاموں کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے۔اب یہ جو مثال جو دی گئی ہے، یہ مکہ کی مثال ہے۔باوجود اس کے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں ہی رزق مہیا کرنے والی تھیں۔اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے باوجود جو اللہ تعالیٰ نے کئے تھے آنحضرت مہ کے انکار کی وجہ سے ان پر بھوک اور سختی کے دن آئے۔ایک وقت ایسا آیا کہ بھوک سے بے چین ہو گئے۔جب تک آنحضرت ﷺ ان میں رہے اُن کی یہ حالت نہ ہوئی۔ہر طرف سے رزق مکہ میں آتا تھا۔لیکن آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے بعد ایک دفعہ مکہ میں ایسا قحط پڑا کہ سب کو زندگی کے لالے پڑ گئے اور ابوسفیان جو اسلام اور آنحضرت ﷺ کا جانی دشمن تھا آنحضرت ﷺ کے پاس مدینہ میں آیا اور بڑی لجاجت سے درخواست کی کہ خدا کے حضور دعا کریں کہ ہماری بھوک اور افلاس اور خوف اور قحط کی حالت کو اللہ تعالیٰ ختم کر دے۔کہنے لگا کہ کیا آپ اپنے بھائیوں کی دل میں ہمدردی نہیں رکھتے کہ انہیں اس طرح خوف اور بھوک کی حالت میں مرجانے دیں گے! آنحضرت ﷺ تو محسن انسانیت تھے۔آپ تو محبت اور ہمدردی کے پیکر تھے۔آپ نے یہ نہیں کہا کہ تم ہمارے دشمن ہو، تم نے مسلمانوں کو جس بے دردی سے ظلم کا نشانہ بنایا ہے تم اس بات کے سزاوار ہو کہ تمہارے سے یہ سلوک کیا جائے بلکہ آپ کا نرم دل فوراً اہل مکہ کے لئے ہمدردی کے جذبات سے مغلوب ہو گیا اور آپ نے ان کے قحط کے حالات ختم ہونے کے لئے