خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 222 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 222

222 خطبه جمعه فرموده 6 جون 2008 خطبات مسرور جلد ششم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف آیات میں رزق کا جو لفظ استعمال کیا ہے، وہ چند آیات پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ سورۃ ہود میں فرماتا ہے کہ وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا۔كُلٌّ فِي كِتب مُّبِينٍ (سورۃ ھود :7) کہ زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ پر ہے اور وہ اس کا عارضی ٹھکا نہ بھی جانتا ہے اور مستقل ٹھہرنے کی جگہ بھی۔ہر چیز ایک کھلی کھلی کتاب میں ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑے زور دار طریقہ سے یہ اعلان فرمایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اس دنیا میں موجود ہر جاندار کو رزق مہیا کرتا ہے۔ہر چرند پرند بلکہ کیڑے مکوڑے اور ایسے چھوٹے چھوٹے کیڑے بھی جنہیں کھانے کی حاجت ہے اللہ تعالیٰ ہی ہے جو انہیں خوراک مہیا کرتا ہے۔زمین میں ہزاروں لاکھوں قسم کے کیڑے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لئے اس زمین کے اندر سے خوراک مہیا کر دی ہے۔پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کا رزق مہیا کرنا کہ ایسے بھی کیڑے ہیں جن کا گو کہ تحقیق سے پتہ چل گیا ہے، اللہ تعالیٰ جنہیں رزق مہیا کرتا ہے، خوراک مہیا کرتا ہے اور کئی ایسے ہیں جن کے بارہ میں ابھی انسان اندھیرے میں ہے کہ کس طرح انہیں خدا تعالیٰ رزق مہیا کرتا ہے۔پھر انسان فصلیں اگاتا ہے۔مختلف قسم کی فصلیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔ان کا اگر ایک حصہ انسان اپنی خوراک کے لئے استعمال کرتا ہے تو دوسرا حصہ دوسرے جانوروں کے کام آ جاتا ہے۔غرض کہ ہر ایک کو رزق مہیا کرنے والا خدا ہے۔اور صرف مادی رزق نہیں جو اس مادی زندگی کے لئے ضروری ہے بلکہ جیسا کہ لغت میں ہم نے دیکھا ہر قسم کی عطا چاہے وہ دنیا کی ہو یا آخرت کی ، رزق کہلاتا ہے اور آخرت کا رزق صرف انسان کے لئے ہے جو اشرف المخلوقات ہے۔اور آخرت کے رزق کی بنیاد روحانیت ہے اور نیک اعمال کرنا اور نیک اعمال کی وجہ سے نیک جزا اس دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی اس کو ملتی ہے، جس کی انتہا آخرت میں جا کر ہوتی ہے۔اور اس کے لئے، اس آخرت کے رزق کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں سامان بہم پہنچائے ہیں۔وہ رزق بھی اللہ تعالیٰ یہاں مہیا فرماتا ہے جو روحانی نشو ونما کا باعث بنے۔اس کے لئے انبیاء آتے ہیں، آتے رہے تا کہ وہ روحانی رزق بھی مخلوق کو دیتے رہیں اور آخر میں آنحضرت محلے کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ایسا بہتر روحانی رزق ہمیں عطا فرمایا جو ہمیشہ کے لئے ہے۔نہ اس کے باسی ہونے کا خطرہ ہے اور نہ ختم ہونے کا خطرہ ہے۔اس آیت میں رزق کے بارے میں بیان کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ عبادت اور نیک اعمال کی طرف توجہ دلا رہا ہے اور واضح کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف ہی تمہارا لوٹنا ہے۔جہاں اس دنیا میں جو بہترین روحانی رزق حاصل کرنے والے تھے ، وہ لوگ اس کے اور بھی اعلیٰ معیار حاصل کرنے والے ہوں گے جنہوں نے نیک اعمال بجالائے ہوں گے۔مادی رزق اور تمام جانداروں کی مثال دینے کا مطلب یہ ہے کہ مادی رزق پر غور کرنے والا جب اس بات کے