خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 7

خطبات مسرور جلد ششم 7 خطبہ جمعہ فرموده 4 جنوری 2008 کریں تو کمزوروں کو بھی ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔شروع میں بعض وقتیں پیش آئیں گی لیکن دعا اور صبر سے یہ روکیں اور مشکلات بھی دور ہو جائیں گی انشاء اللہ۔بعض لوگ لکھتے بھی ہیں اور زبانی بھی موقع ملے تو کہہ دیتے ہیں کہ بعض افراد جماعت پوری طرح تعاون نہیں کرتے، پروگراموں میں حصہ نہیں لیتے تو میں انہیں ہمیشہ یہی کہا کرتا ہوں کہ تمہارا کام یہ ہے کہ مسلسل دعا اور صبر سے کوشش کئے جاؤ۔جو احمدی ہے اس میں کوئی نہ کوئی نیک فطرت کا حصہ ہے جس کی وجہ سے وہ احمدیت پر قائم ہے۔پس کمزوروں کو ساتھ ملا کر چلنا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔اس لئے مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہئے۔اب جبکہ ہم خلافت کی نئی صدی میں چند ماہ تک داخل ہونے والے ہیں۔جماعتی نظام جو مختلف شہروں اور ملکوں میں قائم ہیں اور ذیلی تنظیمیں بھی ایسے پروگرام بنا ئیں جس سے ہماری قربانیوں کے ہر قسم کے معیار بلند ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی تڑپ ہر ایک میں پیدا ہو جائے۔ہر احمدی بھی ، نئے بھی اور پرانے بھی اپنے جائزے لیں کہ کیا بہترین تحفہ ہم شکرانے کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنے کے لئے جارہے ہیں۔مجھے خیال آیا کہ وقف جدید کی یہ تحریک حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بھی وہ آخری تحریک ہے جس میں تبلیغی ،تربیتی اور مالی قربانیوں کا پروگرام دیا گیا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا یہ بھی 50 سال پورے کر کے اپنے 51 ویں سال میں داخل ہورہی ہے اور یہ خلافت کی پہلی صدی کی وہ خاص تحریک ہے جس کا سال کے آخر پر مختصر رپورٹ پیش کر کے نئے سال کا اعلان کیا جاتا ہے۔وقف جدید تحریک جدید کا تو اعلان کیا جاتا ہے لیکن اور بھی تحریکات ہیں ان کا اس طرح باقاعدہ سال کے سال اعلان نہیں ہوتا اور یہ تحریک خلافت کی پہلی صدی کی وہ آخری تحریک ہے جس کا میں آج اعلان کر رہا ہوں یعنی خلافت کی پہلی صدی کے آخری سال کا اختتام بھی اس الہی تحریک کے اعلان سے ہورہا ہے۔اس لحاظ سے بھی وقف جدید کی ایک اہمیت ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے 14،13 سال پہلے وقف جدید کا اعلان کرتے ہوئے ہمارے ایک ماریشین واقف زندگی جہانگیر صاحب کی خواب کا ذکر کیا تھا۔انہوں نے دیکھا تھا کہ جماعت ایک میز کی شکل میں ہے جس کے چار پائے ہیں۔جس میں سے میز کا ایک پایہ یا ٹانگ جو ہے وہ بڑھنی شروع ہوتی ہے اور یہ وقف جدید کا پایہ ہے جس سے توازن خراب ہوتا ہے تو میز کی تحریک جدید کی جو ٹانگ ہے یا جو پا یہ ہے وہ بھی بڑھنا شروع کرتا ہے تا کہ بیلنس قائم رکھے لیکن وہ وقف جدید کے پائے کا ساتھ نہیں دے سکتا۔وہ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔تو پھر اس پائے کو زبان ملتی ہے اور وہ وقف جدید کے پائے کو کہتا ہے کہ اپنی رفتار کم کرو تا کہ میں بھی تمہارے ساتھ مل جاؤں۔اس پر وقف جدید کا پا یہ یہ کہتا ہے کہ میں مجبور ہوں اپنی رفتار کم نہیں کر سکتا کیونکہ میں نے بڑھنا ہی اسی رفتار سے ہے۔