خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 208
خطبات مسرور جلد ششم 208 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 مئی 2008 پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں:۔اصلاح کا طریق ہمیشہ وہی مفید اور نتیجہ خیز ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اذن اور ایماء سے ہو۔اگر ہر شخص کی خیالی تجویزوں اور منصوبوں سے بگڑی ہوئی قوموں کی اصلاح ہو سکتی تو پھر دنیا میں انبیاء علیہم السلام کے وجود کی کچھ حاجت نہ رہتی۔جب تک کامل طور پر ایک مرض کی تشخیص نہ ہو اور پھر پورے وثوق کے ساتھ اس کا علاج معلوم نہ ہو لے کامیابی علاج میں نہیں ہو سکتی۔اسلام کی جو حالت نازک ہو رہی ہے وہ ایسے ہی طبیبوں کی وجہ سے ہو رہی ہے جنہوں نے اس کی مرض کو تو تشخیص نہیں کیا اور جو علاج اپنے خیال میں گزرا اپنے مفاد کو مدنظر رکھ کر شروع کر دیا۔مگر یقیناً یا د رکھو کہ اس مرض اور علاج سے یہ لوگ محض نا واقف ہیں۔اس کو وہی شناخت کرتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اسی غرض کے لئے بھیجا ہے اور وہ میں ہوں“۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 344-343 مطبوعہ ربوہ ) آپ فرماتے ہیں کہ اس کو وہی شناخت کرتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اسی غرض کے لئے بھیجا ہے اور وہ میں ہوں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ:۔” خوب یا د رکھو کہ قلوب کی اصلاح اسی کا کام ہے جس نے قلوب کو پیدا کیا ہے۔دلوں کی اصلاح اسی کا کام ہے جس نے دلوں کو پیدا کیا ہے۔نرے کلمات اور چرب زبانیاں اصلاح نہیں کر سکتیں بلکہ ان کلمات کے اندر ایک روح ہونی چاہئے۔پس جس شخص نے قرآن شریف کو پڑھا اور اس نے اتنا بھی نہیں سمجھا کہ ہدایت آسمان سے آتی ہے تو اس نے کیا سمجھا؟ المْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ ( یعنی کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ) کا جب سوال ہوگا تو پتہ لگے گا۔اصل بات یہ ہے کہ ( فارسی کا ایک مصرعہ لکھا ہے کہ ”خدا را بخدا تواں شناخت“ کہ خدا کو خدا کے ذریعہ ہی پہچانا جاسکتا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔اور یہ ذریعہ بغیر امام کے نہیں مل سکتا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانوں کا مظہر اور اس کی تجلیات کا مورد ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ مَنْ لَمْ يَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ مِيْتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ يعنى جس نے زمانے کے امام کو شناخت نہیں کیا وہ جہالت کی موت مر گیا۔الحکم جلد 9 نمبر 18 صفحہ 10 مورخہ 24 رمئی 1905ء) اللہ تعالیٰ دنیا کو بھی اس امام کو ماننے کی توفیق دے تا کہ اللہ تعالیٰ کے انذار سے یہ لوگ بیچ سکیں۔بہت سے غیر از جماعت لوگ ہیں جو خطبہ سنتے ہیں اور اس کے بعد لکھتے بھی ہیں۔بعض متاثر ہوتے ہیں لیکن خوف کی وجہ سے قبول