خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 207 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 207

خطبات مسرور جلد ششم 207 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 مئی 2008 فرماتے ہیں کہ میری نصیحت پر عمل کرو جو شخص خود زہر کھا چکا ہے وہ دوسروں کی زہر کا کیا علاج ”۔کرے گا۔اگر علاج کرتا ہے تو خود بھی مرے گا اور دوسروں کو بھی ہلاک کرے گا کیونکہ زہراس میں اثر کر چکا ہے۔اور اس کے خواص چونکہ قائم نہیں رہے اس لئے اس کا علاج بجائے مفید ہونے کے مضر ہوگا۔غرض جس قدر تفرقہ بڑھتا جاتا ہے اس کا باعث وہی لوگ ہیں جنہوں نے زبانوں کو تیز کرنا ہی سیکھا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 162-163۔جدید ایڈیشن - مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” میرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی اور طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے۔نہ علمی، نہ خاندانی، نہ مالی۔جب خدا تعالیٰ کسی کو آنکھ عطا کرتا ہے تو دیکھ لیتا ہے کہ ہر ایک روشنی جوان ظلمتوں سے نجات دے سکتی ہے وہ آسمان سے ہی آتی ہے اور انسان ہر وقت آسمانی روشنی کا محتاج ہے۔آنکھ بھی دیکھ نہیں سکتی جب تک سورج کی روشنی جو آسمان سے آتی ہے نہ آئے۔اسی طرح باطنی روشنی جو ہر ایک قسم کی ظلمت کو دور کرتی ہے اور اس کی بجائے تقویٰ اور طہارت کا نور پیدا کرتی ہے آسمان ہی سے آتی ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا تقویٰ ایمان، عبادت، طہارت سب کچھ آسمان سے آتا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔وہ چاہے تو اس کو قائم رکھے اور چاہے تو دور کر دے۔پس کچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لاشی محض سمجھے ( یعنی کچھ بھی نہ سمجھے )۔اور آستانہ الوہیت پر گر کر انکسار اور بجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لئے قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے۔پھر اگر اس کے فضل سے اس کو حصہ مل جاوے اور کسی وقت کسی قسم کا بسط اور شرح صدر حاصل ہو جاوے“۔( دل کی تسلی ہو جاوے) تو اس پر تکبر اور ناز نہ کرے بلکہ اس کی فروتنی اور انکسار میں اور بھی ترقی ہو۔کیونکہ جس قدر وہ اپنے آپ کو لاشئی سمجھے گا اسی قدر کیفیات اور انوار خدا تعالیٰ سے اتریں گے جو اس کو روشنی اور قوت پہنچائیں گے۔اگر انسان یہ عقیدہ رکھے گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی اخلاقی حالت عمدہ ہو جائے گی۔دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبر ہے اور یہی حالت بنا دیتا ہے۔پھر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ دوسرے پر لعنت کرتا ہے اور اسے حقیر سمجھتا ہے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 213۔جدید ایڈیشن۔مطبوعہ ربوہ ) آجکل کے جو علماء ہیں ان کا یہی حال ہے۔پس اپنی اصلاح کے لئے وہی طریق اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتائے گئے ہیں اور عاجزی اور انکساری کو اختیار کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے ورنہ اگر اپنے زور بازو پر بھروسہ ہے اور اپنے علم کو ہی سب کچھ سمجھا جائے تو ایسے شخص پھر جابر اور سرکش تو کہلا سکتے ہیں، اصلاح یافتہ یا اللہ تعالیٰ کی صفت سے فیض نہیں پاسکتے۔