خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 6
6 خطبہ جمعہ فرموده 4 جنوری 2008 خطبات مسرور جلد ششم پھر دوسری بات میں نو مبائعین سے بھی کہنا چاہتا ہوں اور نو مبائعین کو سنبھالنے والوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں : اور وہ یہ کہ نو مبائعین کی جماعت سے تعلق میں مضبوطی تبھی پیدا ہوتی ہے جب وہ مالی قربانی میں شامل ہوتے ہیں۔جب وہ اس اصل کو سمجھ جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ایک ذریعہ مالی قربانی بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو نومبائعین اس حقیقت کو سمجھ گئے ہیں وہ جماعت سے تعلق ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت اور اخلاص اور آنحضرت ماہ کے عشق میں فنا ہونے کی منازل دوڑتے ہوئے طے کر رہے ہیں۔بعض نو مبائعین قربانیوں میں اول درجے کے شمار ہونے کے بعد بھی لکھتے ہیں کہ یہ قربانی ہم نے دی ہے لیکن حسرت ہے کہ کچھ نہیں کر سکے۔انہیں یہ احساس ہے کہ ہم دیر سے شامل ہوئے تو قربانیاں کرتے ہوئے ان منزلوں پر چھلانگیں مارتے ہوئے پہنچ جائیں جہاں پہلوں کا قرب حاصل ہو جائے۔پس یہ وہ موتی اور ہیرے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے اور عطا فرما رہا ہے۔جن کی حسرتیں دنیاوی خواہشات کے لئے نہیں بلکہ قربانیوں میں بڑھنے کے لئے ہیں اور جس قوم کی حسرتیں یہ رخ اختیار کر لیں اس قوم کو کبھی کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا۔جب کہ خدائی وعدے بھی ساتھ ہوں اور اللہ تعالیٰ یہ اعلان کر رہا ہو کہ میں تیرے ساتھ اور تیرے پیاروں کے ساتھ ہوں۔پس جو کمزور ہیں ، نئے احمدی ہوں یا پرانے ، تربیتی کمزوریوں کی وجہ سے بھول گئے ہیں یا قربانیوں کی اہمیت سے لاعلم ہیں ، ہمیشہ یادرکھیں کہ مسلسل کوشش اور جد و جہد نہیں وہ مقام دلائے گی جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا مقام ہے۔اس اہم کام کی سرانجام دہی کے لئے جہاں ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس اہمیت کو سمجھے وہاں انتظامیہ کا بھی فرض ہے کہ احباب جماعت کو اس کی اہمیت بتا ئیں۔نو مبائعین کو اس کی اہمیت بتائیں۔جب تک عہدیداران کے اپنے معیار قربانی نہیں بڑھیں گے ان کی بات کا اثر نہیں ہوگا۔جہاں عہد یداران اپنی امانتوں کا حق ادا کرنے والے ہیں وہاں کی رپورٹس بتا دیتی ہیں کہ حق ادا ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں ایسے کارکنان بھی ہیں جو اپنا سب کچھ بھول جاتے ہیں ، بیوی بچوں کو بھی بھول جاتے ہیں، اپنے نفس کے حق بھی ادا نہیں کرتے صبح اپنے کام پر جاتے ہیں اور وہاں سے شام کو سید ھے جماعتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔انہیں کہنا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہارا اور تمہارے بیوی بچوں کا بھی تم پر حق رکھا ہے۔بعض ایسے بھی ہوتے ہیں۔بہت محنت کرنے والے ہوتے ہیں لیکن بعض دفعہ یہ جو محنت کرنے والے ہیں یہ بھی صحیح طریق پر محنت نہیں کر رہے ہوتے۔مثلاً چندوں کے معاملے میں۔جو چندہ دینے والے مخلصین ہیں ہر تحریک کی کمی پورا کرنے کے لئے انہیں کو بار بار کہا جاتا ہے۔جب کہ کئی دفعہ کہا گیا ہے کہ نئے شامل ہونے والوں کو بھی شامل کریں اور تعداد بڑھائیں۔ہر ایک میں قربانی کی روح پیدا کریں۔اگر شعبہ تربیت اور مال یا وقف جدید، تحریک جدید مشتر کہ کوشش