خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 5

خطبات مسرور جلد ششم 5 خطبه جمعه فرموده 4 جنوری 2008 سال 2008ء کا پہلا جمعہ ہے اور اس کے ساتھ نئے سال کا اعلان بھی کرتا ہوں اور اس بارے میں مزید چند باتیں بھی کروں گا۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ یہ کیم زیادہ تر پاکستان بنگہ دیش وغیرہ میں شروع تھی اور خلیفہ وقت کے مخاطب عموماً وہیں کے احمدی ہوتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسی لئے پاکستانی احمدی بچوں کو کہا تھا کہ تم وقف جدید کا بوجھ اٹھاؤ اور اپنے بڑوں کو بتادو کہ احمدی بچے بھی جب ایک فیصلہ کر کے کھڑے ہو جا ئیں تو بڑے بڑے انقلاب لانے میں مددگار بن جاتے ہیں۔چنانچہ احمدی بچوں اور بچیوں نے اس اعلان کے بعد جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے فرمایا تھا اور جو کام بچوں کے سپرد کیا تھا ایک دوسرے سے بڑھ کر مالی قربانیاں دینے کی کوششیں کیں اور وقف جدید کا چندہ اطفال و ناصرات کے چندے کے نام سے احمدی بچوں اور بچیوں کی پہچان بن گیا۔بچوں کی آمدنی تو کوئی نہیں ہوتی ، وہ تو اپنے جیب خرچ میں سے جب کوئی بڑا ان کو پیسے دے دے تو اس میں سے چندہ دے دیتے ہیں یا بعض والدین بھی ان کی طرف سے دیتے ہیں۔لیکن یہ بچوں کا جوش اور جذ بہ ہے کہ پاکستان میں وقف جدید کے چندوں میں بچوں کی جو شمولیت ہے وہ بڑوں کی شمولیت کا تقریبا نصف ہے۔گو کہ میرے خیال میں یہاں بھی اضافے کی بڑی گنجائش ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تسلی بھی ہے کہ ایسے بچے جن کو اس طرح بچپن میں مالی قربانی کی عادت پڑ جائے وہ آئندہ نسلوں کی قربانیوں کی ضمانت بن جایا کرتے ہیں۔اللہ کرے کہ یہ روح ہمارے بچوں میں بڑھتی چلی جائے اور اب جب کہ یہ وقف جدید کی تحریک تمام دنیا میں رائج ہے تو بچے بھی اور ماں باپ بھی اور سیکرٹریان وقف جدید بھی اس طرف خاص توجہ کریں۔جماعتی نظام اور ناصرات واطفال کی ذیلی تنظیمیں بھی اس طرف توجہ کریں کہ زیادہ سے زیادہ بچے وقف جدید کے چندے میں شامل کریں۔بچوں کو اس کی اہمیت کا احساس دلائیں، قربانی کی روح ان میں پیدا کریں۔جو بچے اس مادی دور میں اس طرح قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں گے، اس طرح قربانی کرتے ہوئے پروان چڑھیں گے، وہ نہ صرف جماعت کا بہترین وجود بنیں گے بلکہ اپنے روشن مستقبل کی بھی ضمانت بن جائیں گے۔لہو ولعب سے بچتے ہوئے ، فضولیات سے بچتے ہوئے لغویات سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں گے۔پس ہمیشہ اس بات کو بڑے بھی یا درکھیں اور بچے بھی عورتیں بھی اور مرد بھی کہ انقلاب قربانیوں سے ہی آتے ہیں اور اس زمانے میں جب ہر طرف مادیت کا دور دورہ ہے مالی قربانی نفس کی اصلاح کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔بچوں کی خواہشات بھی ہیں اور بڑوں کی خواہشات بھی ہیں لیکن اپنی خواہشات کو دبا کر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مالی قربانی اس زمانے میں ایک بہت بڑا جہاد ہے۔دنیاوی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے خرچ کرنا تو آسان ہے لیکن دینی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مالی قربانی دینا یقیناً ایک جہاد ہے۔