خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 189
خطبات مسرور جلد ششم 189 خطبه جمعه فرموده 9 مئی 2008 ہے اور جب تک ایسی مائیں پیدا ہوتی رہیں گی خلافت کی محبت نسل در نسل چلتی چلی جائے گی۔گھانا میں لنگر کا انتظام بھی عورتوں نے سنبھالا ہوا تھا۔دنیا میں تو مرد سنبھالتے ہیں وہاں عورتوں نے سنبھالا ہوا تھا۔میں ایک دن صبح نماز کے بعد معائنہ کے لئے گیا تو قیام گاہ قریب ہونے کی وجہ سے جب دوسری خواتین کوعلم ہوا تو وہ بھی آگئیں۔لنگر میں کام کرنے والی خواتین کی اپنی تعداد بھی کافی تھی اور اس قد رفلک شگاف نعرے تھے اور جوش تھا کہ میں لنگر دیکھنے تو گیا تھا لیکن تھوڑا سا آگے جا کر اس لئے واپس آ گیا کہ اب یہ جوش جو ہے یہیں نہیں رہے گا اور یہ نہیں دیکھے گا کہ آگے چولہے پر دیگ پڑی ہوئی ہے یا آگ جل رہی ہے۔تو اس خطرے کی وجہ سے کہ کہیں کسی کو نقصان نہ پہنچ جائے مجھے واپس آنا پڑا۔خدام کا صبر اور ڈیوٹی بھی ماشاء اللہ معیاری تھی۔ایک دن جلسہ گاہ میں شدید ہوا اور بارش تھی ہمیں نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھا تو خادم ڈیوٹی پر موجود تھے اور بغیر کسی چھتری کے طوفان میں یوں چاق و چو بند کھڑے تھے جیسے زبان حال سے کہہ رہے ہوں کہ کون ہے جو ہمارے پائے ثبات میں لغزش لا سکے۔تو یہ ہے غانا کا خلاصہ۔گھانا سے ہم نائیجیریا میں ایک رات قیام کے بعد بین چلے گئے۔وہاں کے امیر اور مشنری انچارج کا اصرار تھا کہ پورتو نو و جہاں چار سال پہلے مسجد کا سنگ بنیاد رکھا تھا ایک بڑی مسجد کی تعمیر ہوئی ہے، اب مکمل ہوگئی تھی تو اس کا افتتاح بھی کر دیں۔اور اسی طرح اتفاق سے انہی دنوں میں وہاں کا جلسہ بھی ہورہا تھا اس میں بھی کچھ کہہ دیں پہلے بینین جانا شامل نہیں تھا۔بین کی جماعت نئی ہے، اکثریت نومبائعین پر مشتمل ہے۔اس لئے میں نے شروع کے پروگرام میں تھوڑی سی تبدیلی کر کے، اس کو شامل کر دیا۔نائیجیریا سے کاروں کے ذریعہ بارڈر کراس کیا، وہاں حکومتی وزیر لینے آئے ہوئے تھے، ماشاء اللہ اچھا استقبال تھا۔گزشتہ دورے کی نسبت حکومتی سطح پر بھی کافی تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔بہر حال میرا کام تو زیادہ تر احمدیوں کو ملنا تھا۔نائیجیریا، بین بارڈر پر کافی تعداد میں احمدی موجود تھے۔استقبال کے لئے احباب وخواتین آئے ہوئے تھے۔بڑے پر جوش اور نعرے لگا رہے تھے۔اگلے دن جلسے کا آخری دن تھا۔وہاں میں نے تھوڑی سی تقریر بھی کی۔وہاں تقریباً 22 ہزار کی حاضری تھی اور بڑے دُور سے لوگ آئے ہوئے تھے اور آہستہ آہستہ جوں جوں نو مبائعین کو احمدیت کو سمجھنے میں ترقی ہو رہی ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص و وفا بھی ان کا بڑھ رہا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں اخلاص اور محبت میں بڑھاتا چلا جائے۔دوروں کا جہاں اپنوں پر اثر ہوتا ہے تعلق بڑھتا ہے وہاں تبلیغ کے راستے بھی کھلتے ہیں۔وہاں ریسیپشن تھی۔وہاں ایک ایم این اے آئے ، کافی دیر سے ان کا تعلق ہے ، انہوں نے بعد میں کہا میں نے بیعت کرنی ہے تو میں نے کہا آپ مزید غور کر لیں لیکن وہ بڑے تیار تھے۔میں نے کہا ٹھیک ہے پھر فارم Fill کر دیں۔