خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 188
188 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرموده 9 مئی 2008 جوالفضل کے ایڈیٹر ہوتے تھے وہ ساتھ تھے، رپورٹس وہی لکھا کرتے تھے، تو نائیجیریا کا استقبال دیکھ کر انہوں نے یہ لکھا کہ ہزاروں افراد کا والہانہ اور عدیم المثال استقبال اور اس طرح کے اور فقرات لکھے۔غانا پہنچے تو کہتے تھے میرا خیال تھا کہ نائیجیریا کا استقبال ایک انتہا ہے۔لیکن غانا کا استقبال دیکھ کر تو جیسے پریشان ہو گئے۔آخر انہوں نے کہا، یہی لکھا جاسکتا ہے کہ احمدی مردوزن کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر۔تو گھانا کی جماعت تو حقیقت میں ایک ٹھاٹھیں مارتا ہواسمندر ہے۔خلافت سے محبت ان کے دل، آنکھ ، چہرے اور جسم کے روئیں روئیں سے ٹپکتی ہے۔اب تو گھانا کی جماعت نو مبائعین کی وجہ سے مزید وسعت اختیار کر چکی ہے اور پرانوں کے زیر اثر یہ نئے بھی اسی اخلاص و وفا میں رنگین ہو رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلوں کا تھا۔جیسا کہ میں نے کہا اس دفعہ جلسہ نئی جگہ پر ہوا تھا اور یہ اتنا بڑا جلسہ وسیع پیمانے پر تھا، ایک لاکھ سے اوپر حاضری تھی۔ان کی رجسٹریشن تقریباً 83 ہزار تھی۔اس کے بعد ان کا انتظام اس کو سنبھال نہیں سکا اور ہزاروں کی تعداد میں اس کے بعد احباب و خواتین آئے اور پھر چھوٹے بچوں کی رجسٹریشن بھی نہیں ہوتی۔جمعہ پر حاضری کا نظارہ دنیا نے کر ہی لیا ہے۔آئیوری کوسٹ سے آئے ہوئے ایک دوست نے یہ تبصرہ کیا کہ حج کے بعد اتنا بڑا مجمع میں نے پہلی دفعہ دیکھا ہے۔جب میں خطبے کے دوران ان لوگوں کو دیکھتا تھا تو دل میں خیال آتا تھا کہ پتہ نہیں ایم ٹی اے والے اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو پوری طرح دنیا میں دکھا بھی سک رہے ہیں کہ نہیں۔لیکن الحمد للہ کہ ہمارے ایم ٹی اے کے لڑکوں نے جو یہاں سے ساتھ گئے تھے اپنی مہارت کا خوب اخلاص سے مظاہرہ کیا اور ایک دنیا نے اس کو دیکھا، اور ان کا بھی ان میں بڑا حصہ ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو بھی جزا دے۔غانینز (Ghanians) کی ایک خوبی جو آپ نے جمعہ میں دیکھی وہ یہ ہے کہ بڑے صبر سے تحمل سے گرمی میں بیٹھے ہوئے تقریباً ایک گھنٹہ تک دھوپ میں خطبہ سنتے رہے اور بڑی تعداد میں بیٹھے رہے۔صرف وہی خوبی نہیں ہے بلکہ تہجد کی نماز اور فجر کی نماز میں بھی میدان اسی طرح بھرا ہوتا تھا جس طرح جمعہ میں آپ نے دیکھا۔اور آخری دن جو ہفتہ کا دن تھا اور اس دن چھٹی تھی ، شاید اس میں مزید لوگ بھی آئے ہوں۔صبح جب میں نماز کے لئے گیا ہوں تو حیران رہ گیا کہ جو حاضر مرد وزن وہاں میدان میں نماز پڑھنے کے لئے جمع تھے، ان کی تعداد جمعہ سے بھی زیادہ لگ رہی تھی۔عورتوں کا جوش بھی دیدنی تھا۔نماز کے بعد واپس گھر تک تقریباً ایک کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔گاڑی میں جاتا تھا تو رینگتی ہوئی گاڑی گزرتی تھی۔دو رویہ عورتیں کھڑی ہوتی تھیں، مرد کھڑے ہوتے تھے۔بچوں کو اٹھایا ہوتا تھا۔ان سے سلام کرواتی تھیں۔محبت یوں ٹپک رہی ہوتی تھی کہ جیسے دو سگے بہن بھائی یا بھائی بھائی آپس میں مل رہے ہیں۔پس یہ ہیں گھا نین عورتیں اور مرد عورتوں کی تعداد بھی کم از کم 50 ہزار تھی جو خلافت سے اخلاص ومحبت کے ساتھ اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرنا جانتی تھیں اور کر رہی تھیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ خدا تعالیٰ کا دائمی خلافت کا وعدہ