خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 184 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 184

خطبات مسرور جلد ششم 184 خطبہ جمعہ فرموده 9 مئی 2008 ہیں۔خلیفہ وقت کی موجودگی میں جلسہ ہورہا ہے۔دو دن کی عارضی تکلیف سے کیا فرق پڑتا ہے۔ہم خوش ہیں کہ اس جلسہ میں شمولیت کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں موقع دیا۔نئی جگہ پر اور پھر تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بعض انتظامات میں کمی بھی تھی لیکن مجال ہے جو کسی نے شکوہ کیا ہو۔اُن کی حاضری تقریباً ایک لاکھ سے او پر تھی اور مرکزی طور پر لنگر چلانے کا بھی پہلا تجربہ تھا۔عموماً وہاں یہ رواج ہے کہ ہر ریجن کو اپنے لوگوں کو کھانا کھلانے کا اور اپنے انتظام چلانے کا کام سپر د کیا جاتا ہے کہ وہی خوراک وغیرہ سنبھالیں۔اس دفعہ گھانا سے باہر سے بھی تقریباً5 ہزار افراد آئے ہوئے تھے اور ان کا اپنا بھی انہوں نے مرکزی طور پر لنگر چلایا تھا۔اس لئے بہر حال بعض انتظامی وقتیں سامنے آئیں۔ایک دن مجھے پتہ چلا کہ بورکینا فاسو کے بعض افراد کو کھانا نہیں ملا۔بورکینافاسو سے بھی تقریباً 3 ہزار افراد آئے تھے ، سب سے بڑی تعداد وہاں سے آئی تھی۔یہ گھانا کا ایک ہمسایہ ملک ہے۔300 کے قریب خدام سائیکلوں پر 1600 کلومیٹر سے زائد کا سفر کر کے آئے تھے۔بہر حال میں نے وہاں جو ان کے ساتھ مبلغ آئے تھے ان کو کہا کہ جن کو کھانا نہیں ملا ان سے معذرت کریں اور آئندہ خیال رکھیں۔جب انہوں نے جا کر معذرت کی تو لوگوں کا جواب تھا کہ ہم جس مقصد کے لئے آئے ہیں وہ ہم نے حاصل کر لیا ہے۔کھانے کا کیا ہے روز کھاتے ہیں لیکن جو کھانا ہم اس وقت حاصل کر رہے ہیں وہ روز روز کہاں ملتا ہے۔بورکینافاسو کی جماعت تو اتنی پرانی نہیں ہے۔اکثریت گزشتہ 10-15 سال پر مشتمل ہے۔لیکن اخلاص اور وفا اور محبت میں ترقی کرتے چلے جارہے ہیں۔غربت کا یہ حال ہے کہ بعض لوگ ایک جوڑے میں آئے ، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مشکل سے بدن پر لباس بھی ہوتا ہے لیکن پیسے جوڑ کر جلسے پر پہنچے تھے کہ خلافت جو بلی کا جلسہ ہے۔خلیفہ وقت کی موجودگی میں ہو رہا ہے اور ہم نے اس میں ضرور شامل ہونا ہے اور چھوڑنا نہیں۔ایسی محبت خدا تعالیٰ کے علاوہ اور کون پیدا کر سکتا ہے؟۔جو خدام سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے تھے، ان کے اخلاص کا اندازہ اس بات سے بھی کر لیں کہ یہ مختلف جگہوں پر پڑاؤ کرتے ہوئے ، سات دن مسلسل سفر کرتے رہے اور یہاں پہنچے ہیں۔ان سائیکل سواروں میں 50 سے 60 سال کی عمر کے سات انصار بھی شامل تھے اور 13 اور 14 سال کے دو بچے بھی شامل تھے۔جب ان بچوں سے امیر صاحب بور کینا فاسو نے کہا کہ آپ سفر پر نہیں جا سکتے۔آپ چھوٹے ہیں اور سفر لمبا ہے تو وہ بڑے غمگین ہو گئے اور اپنے قائد اور معلم کے پیچھے بھاگے کہ امیر صاحب کو کہیں ہم نے ضرور ساتھ جانا ہے اور اب ہم واپس نہیں جائیں گے۔وہ اپنے علاقوں سے آئے ہوئے تھے۔چنانچہ ان بچوں کو اجازت دے دی گئی۔انہوں نے بڑی خوشی کے ساتھ یہ سارا سفر مکمل کیا۔