خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 4
خطبہ جمعہ فرموده 4 جنوری 2008 خطبات مسرور جلد ششم مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کے حصول کے لئے ہم تیزی سے آگے بڑھتے چلے جائیں۔انہی تبلیغی اور تربیتی پروگراموں کے لئے ایک سکیم وقف جدید کی بھی تھی جو آپ نے جماعت کے سامنے رکھی اور اس کے لئے مالی قربانی کی بھی اور واقفین زندگی معلمین کی بھی تحریک فرمائی تا کہ بر صغیر پاک و ہند کے دیہاتوں میں، زیادہ تر پاکستان میں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام تیزی سے پھیلایا جا سکے۔27 دسمبر 1957ء کو آپ نے اس کا اعلان فرمایا تھا۔گویا آج اس تحریک کو بھی 50 سال پورے ہو گئے ہیں اور 51 واں سال شروع ہو گیا ہے۔یہ تحریک شروع میں جیسا کہ میں نے کہا پاکستان ہندوستان اور بنگلہ دیش کے لئے ہی تھی اور زیادہ تر انہی ملکوں کے احمدی اس میں حصہ لیتے تھے۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ صحیح طور پر صرف پاکستانی احمدی اس میں حصہ لیتے تھے جس میں ایک مالی پہلو بھی تھا، مالی قربانی بی تھی اور وقف جدید کے لئے بہت بڑی رقم جواس کام کے لئے تھی پاکستانی احمدی ہی مہیا کرتے تھے۔اسی طرح واقفین زندگی معلمین تھے وہ بھی انہی میں سے تھے۔تو بہر حال 1985ء میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کے احمدیوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے احمدیوں نے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے دنیا میں پھیلانے میں مالی جانی اور وقت کی قربانی دی ہے۔وہ لوگ قربانیاں دیتے رہے ہیں۔اب باہر کی جماعتیں خاص طور پر جو یورپ اور امریکہ کی جماعتیں ہیں اُن کو اس احسان کو یاد کرتے ہوئے تبلیغی اور تربیتی پروگراموں میں ان کی مدد کرنی چاہئے اور خاص طور پر ہندوستان کی جماعتوں کی کیونکہ وہاں تعداد تھوڑی ہے اور اکثریت غریبوں کی ہے۔گو بعد میں ہندوستان میں نئی بیعتوں کی وجہ سے تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔لیکن وہاں بھی اکثریت غریب لوگوں کی ہے جن کا چندہ ، وہاں کے جو اخراجات ہیں اس کے مقابلے پہ بہت کم ہے۔بہر حال وقف جدید کے چندہ کی تحریک کو 1985ء سے تمام دنیا پر لاگو کر دیا گیا۔یورپ اور امریکن ممالک کا چندہ وقف جدید زیادہ تر ہندوستان اور افریقن ممالک کے جو تبلیغی اور تربیتی پروگرام ہیں ان پر خرچ ہوتا ہے۔مختصر یہ کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تحریک تمام دنیا میں جاری ہے۔تمام دنیا کے احمدی اس میں حصہ لیتے ہیں اور احمدی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے اپنی توفیق کے مطابق جیسا کہ میں نے کہا اس کی جو مالی ضرورت ہے اس کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا کہ 1957ء میں جب وقف جدید کی سکیم کا آغاز ہوا تو اُس وقت اس کا جو پہلا سال تھا 1958ء تھا۔اس لئے ہر سال اس تحریک کا، وقف جدید کا مالی پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے اور مالی قربانیاں جو احباب جماعت کرتے ہیں ان کو ایک سال کے بعد جنوری کے شروع میں جماعت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور نئے سال کا اعلان کیا جاتا ہے۔اسی وجہ سے میں بھی آج وقف جدید کے بارے میں ہی بات کر رہا ہوں۔یہ اس