خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 170 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 170

خطبات مسرور جلد ششم 170 (17) خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اپریل 2008 فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2008ء بمطابق 25 رشہادت 1387 ہجری شمسی بمقام پورٹونو و بین۔مغربی افریقہ ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے پورٹونو وو کی اس مسجد میں ہم نماز جمعہ ادا کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ توفیق دی کہ ایسی خوبصورت اور وسیع مسجد بنائیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ یہاں جمع ہوسکیں۔گزشتہ دورے میں جب میں آیا تھا تو کو تو نو کی خوبصورت اور بڑی مسجد کا افتتاح کیا تھا۔جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ وہ ہمیں توفیق دے رہا ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں، ہر شہر میں مسجدوں کی تعمیر کریں۔افریقہ کے غریب ممالک کے دُور دراز کے علاقوں کے چھوٹے چھوٹے گاؤں اور قصبوں میں بھی مسجد کی تعمیر ہو رہی ہے اور بڑے شہروں میں بھی مساجد بن رہی ہیں۔اسی طرح یورپ اور دوسرے مغربی ممالک میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مساجد تعمیر ہو رہی ہیں۔ہر جگہ جماعت بڑی قربانیاں کر کے مسجدیں بنا رہی ہے۔جماعت احمدیہ کے پاس نہ تو تیل کی دولت ہے، نہ کسی اور ذریعہ سے ہم دولت جمع کرتے ہیں ، ہاں ایمان کی دولت ہے جس کی وجہ سے احمدی قربانی کرتے ہیں۔پس آپ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اس دولت کی ہمیشہ حفاظت کرنی ہے۔یہ ایک ایسا بے بہا خزانہ ہے جس کو چھیننے کے لئے ہر راستے پر چور، اچکے اور ڈا کو بیٹھے ہوئے ہیں۔نہ ان لوگوں سے ہماری راتیں محفوظ ہیں ، نہ ہمارے دن محفوظ ہیں بلکہ یہ ڈاکو شیطان کی صورت میں ہمارے خون میں دوڑ رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے ہوشیار کیا کہ شیطان جو تمہاری رگوں میں دوڑ رہا ہے اس سے بچو۔ہمیشہ یادرکھیں کہ آدم کی پیدائش کے وقت بھی شیطان نے یہ عہد کیا تھا کہ میں انسانوں کو ضرور ان کے راستے سے بھٹکاؤں گا۔پس ہمیشہ یادرکھیں کہ ایمان کی دولت ایسی دولت ہے جس کی حفاظت سب سے مشکل کام ہے۔باقی دنیاوی دولتوں کے لئے تو آپ بنیادی حفاظت کے سامان کر سکتے ہیں۔تالے لگا سکتے ہیں، پہرے بٹھا سکتے ہیں۔لیکن یہ دولت ایسی ہے جس کی حفاظت کے لئے مسلسل اپنے نفس کی پاکیزگی کے سامان کرنے اور مسلسل جہاد کرنا پڑتا ہے۔جس کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو تلاش کرنے کے لئے مسلسل جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔کیونکہ اس کے