خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 155 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 155

خطبات مسرور جلد ششم 155 (15) خطبہ جمعہ فرمودہ 11 اپریل 2008 فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2008ء بمطابق 11 شہادت 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سفر کے بارے میں مختلف جگہ مختلف مضامین اور حوالوں کے ساتھ توجہ دلائی ہے۔انبیاء کا انکار کرنے والوں کو کہا کہ پھر واور دیکھو انکار کرنے والی قوموں کا کیا انجام اور حشر ہوا۔مصر میں فرعون کی لاش کو آج تک محفوظ رکھ کر ہمیشہ کے لئے انکار کرنے والوں اور حد سے تجاوز کرنے والوں کے لئے ایک عبرت کا سامان پیدا فرما دیا۔ہزاروں لاکھوں سیاح اسے دیکھتے ہیں۔پھر معلومات ویسے بھی مل جاتی ہیں آجکل تو انٹر نیٹ پر بھی مل جاتی ہیں۔دیکھنے والوں میں مسلمان بھی ہیں ، عیسائی بھی ہیں، دوسرے مذاہب کے لوگ بھی ہیں، لامذہب بھی ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کا خوف ہو تو دیکھیں کہ کس طرح فرعون کا عبرتناک انجام ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں اس خبر کی سچائی کا ظہور ہوا جو فرعون کے بارے میں قرآن کریم نے حقیقی رنگ میں بیان فرمائی ہے۔بائیل میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔اس کو دیکھنے کے لئے اس زمانہ میں سفر اور دوسرے ذریعوں کی سہولتیں زیادہ میسر ہیں۔قرآن کریم کی پیشگوئیوں کے مطابق بہت اعلیٰ رنگ میں اس زمانے میں وسائل میسر ہیں جن سے پرانی چیزوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔بہر حال سبق بھی وہی حاصل کرتے ہیں جن کے دل میں نیکی کی چنگاری ہو اور جنہیں اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا ہو۔یہ تو ہے ایک نبی کا مقابلہ اور انکار کرنے والے کے انجام کا ایک واقعہ جومیں نے فرعون کا بیان کیا ہے۔قرآن کریم میں کئی انبیاء کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو انکار کرنے والے ہیں پھریں اور دیکھیں، آثار قدیمہ کے کھوج لگا ئیں تاکہ پتہ لگے کہ تکبر اور فخر کوئی چیز نہیں ہے۔بڑی بڑی قوموں کے بھی نشان مٹ جایا کرتے ہیں۔پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی مختلف نوعیت کے سفروں کی طرف توجہ دلائی ہے۔مومن ایک تو قوموں کے عبرتناک انجام دیکھ کر، پڑھ کر ہن کر، اللہ تعالیٰ سے زیادہ کو لگاتے ہیں۔ایک مومن ایسے واقعات دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ جھکتا ہے۔شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی کوشش کرتا ہے تا کہ