خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 149

149 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 4 اپریل 2008 ہے۔اس سے باز آجا۔پس جیسے رفق ، حلم اور ملائمت سے اپنی اولاد سے معاملہ کرتے ہو ویسے ہی آپس میں بھائیوں سے کرو۔جس کے اخلاق اچھے نہیں ہیں مجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے کیونکہ اس میں تکبر کی ایک جڑ ہے۔اگر خدا راضی نہ ہو تو گویا یہ بر باد ہو گیا۔پس جب اس کی اپنی اخلاقی حالت کا یہ حال ہے تو اسے دوسروں کو کہنے کا کیا حق ہے“۔( ملفوظات جلد سوم۔صفحہ 590۔جدید ایڈیشن۔مطبوعہ ربوہ ) یہ نصیحت ہے جو انتہائی اہم ہے۔مجھے بھی روزانہ چند ایک ایسے خطوط آتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ نرمی اور صبر کی جو کمی ہے یہ آپس کے جھگڑوں کی بہت بڑی وجہ ہے۔پس جس حلم اور رفق کی کمی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فکر کا اظہار فرمایا ہے اس زمانے میں تو شاید چند ایک ایسے ہوں جن سے آپ کو فکر پیدا ہوئی لیکن جماعت کی تعداد بڑھنے کے ساتھ بعض برائیاں بھی بعض دفعہ بڑھتی ہیں تو اس طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔جماعتی نظام ایک حد تک اصلاح کر سکتا ہے۔اصل اصلاح تو انسان خود اپنی کرتا ہے اور اگر ہر احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس انذار کو پیش نظر رکھے جیسا کہ آپ نے اس اقتباس میں فرمایا ہے کہ ”جس کے اخلاق اچھے نہیں مجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے۔تو ایک احمدی کا دل لرز جاتا ہے اور لرز جانا چاہئے۔میں نے جائزہ لیا ہے کہ تکبر ہی ہے اور حلم اور رفق کی کمی ہی ہے جو بہت سے جھگڑوں کی بنیاد بنتی ہے۔ایک طرف اگر کوئی بات ہوتی ہے تو دوسرا فریق بجائے نرمی دکھانے کے کہ اس سے جھگڑا ختم ہو جائے اس سے بھی زیادہ بڑھ کر جواب دیتا ہے اور نتیجتاً جھگڑے جو ہیں وہ طول پکڑتے جاتے ہیں۔اصلاحی کمیٹیوں سے حل نہیں ہوتے۔پھر قضاء میں جاتے ہیں۔پھر اگر کوئی فریق فیصلہ نہ مانے تو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو جو فیصلہ نہیں مانتا جماعتی نظام سے نکالنا پڑتا ہے۔یوں ایک اچھا بھلا خاندان روشنیاں دیکھنے کے بعد پھر اس سے محروم ہو جاتا ہے۔بعض پھر اس ضد میں اتنا پیچھے چلے جاتے ہیں کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔حقیقت میں وہ ایمان گنوا بیٹھتے ہیں۔صرف خطرہ ہی نہیں رہتا۔والدین کی سزا کی وجہ سے بعض بچے جو نیک فطرت ہوتے ہیں اُن پر بھی اپنے ماں باپ کی حرکتوں کا منفی اثر ہوتا ہے۔اپنے ماحول میں ان کو شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔پھر ایسے والدین جو جھگڑالو ہیں جن کے واقف نو بچے ہیں ان کے واقف نو بچوں کے معاملات کو بھی زیر غور لایا جاتا ہے کہ ان بچوں کا وقف قائم بھی رکھا جائے کہ نہیں۔کیونکہ اگر ماں باپ کا یہ حال ہے کہ معاشرے کے حقوق ادا نہیں کر رہے اور نظام جماعت کا خیال نہیں تو بچوں کی تربیت کس طرح ہو گی۔غرض کہ اس خلق حلم اور رفق کی کمی کے باعث ایک خاندان اپنے ایمان کو اور اپنی نسلوں کے ایمان کو داؤ پر لگا دیتا ہے اور پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ایسے آدمی پھر دوسروں کو کہنے کا بھی حق نہیں رکھتے کہ ہمارے پاس سچائی ہے اور یوں کسی سعید فطرت کو احمدیت سے بھی دُور لے جانے کا باعث بنتے ہیں۔یعنی ایک غلطی ، دوسری غلطی کو جنم دیتی ہے اور پھر بڑھتی چلی جاتی ہیں۔