خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 145 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 145

خطبات مسرور جلد ششم 145 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 2008 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: ایک افسوسناک خبر ہے۔گزشتہ دنوں 19 مارچ کو ڈاکٹرمحمد سرور خان صاحب کو آپ کے گاؤں میں (سنگو ضلع پشاور میں ان کا گاؤں ہے ) رات 8 بجے شہید کر دیا گیا۔دروازے پر گھنٹی بجی۔آپ باہر نکلے، کلینک کرتے تھے، تو چند نامعلوم شر پسند افراد نے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے آپ کو شہید کردیا۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ کی عمر 74 سال تھی۔1954 ء میں بیعت کی سعادت حاصل ہوئی تھی اور احمدیت کی خاطر بڑی قربانیوں کی توفیق پائی۔نہایت نڈر، دلیر اور نیک انسان تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے علاقے میں آپ کی شہرت بھی تھی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں شفار کھی ہوئی تھی۔کافی اثر ورسوخ تھا۔اکیلا احمدی خاندان تھا۔پہلے بھی آپ پر قاتلانہ حملے ہوئے ہیں لیکن ہمیشہ محفوظ رہے تھے۔حملوں کے باوجود بہادر بہت تھے۔لوگوں نے کہا بھی کہ گاؤں چھوڑ دیں آپ نے اپنا علاقہ نہیں چھوڑا۔آپ کی چھ بیٹیاں اور 3 بیٹے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو صبر دے۔آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کی اس قربانی کو قبول کرتے ہوئے اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے۔ابھی نماز جمعہ کے بعد میں ان کی نماز جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔الفضل انٹر نیشنل جلد نمبر 15 شمارہ نمبر 16۔مورخہ 18 اپریل تا 24 اپریل 2008 صفحہ 5 تا 8)