خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 144
خطبات مسرور جلد ششم 144 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 2008 پھر غیروں سے کیا سلوک تھا؟ دشمنوں سے کیا سلوک تھا؟ (اس کی ) ایک ( مثال ) تو ہم فتح مکہ میں دیکھ چکے ہیں۔لیکن جو پہلی جنگ بدر کی تھی اس کا ایک واقعہ ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر جس جگہ اسلامی لشکر نے پڑاؤ ڈالا وہ کوئی ایسی اچھی جگہ نہیں تھی۔اس پر خباب بن منذر نے آپ سے دریافت کیا کہ آیا خدائی الہام کے تحت آپ نے یہ جگہ پسند کی ہے یا محض فوجی تدبیر کے طور پر اس کو اختیار کیا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو محض جنگی حکمت عملی کے باعث ہے۔انہوں نے عرض کی کہ یہ مناسب جگہ نہیں ہے۔آپ لوگوں کو لے کر پانی کے چشمہ کے قریب چلیں تا کہ اس پر قبضہ ہو جائے اور وہاں حوض بنالیں گے اور پانی پی سکیں گے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم نے اچھی رائے دی ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ صحابہ سمیت پانی کے قریب چلے گئے اور وہاں جا کے پڑاؤ ڈالا۔تھوڑی دیر کے بعد قریش کے لوگ پانی پینے اس حوض پر آئے تو آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ ان کو پانی پی لینے دو۔کیونکہ صحابہ کا خیال یہ تھا کہ ان کو پانی سے روکا جائے گا لیکن آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہیں ان کو پانی پی لینے دو۔(سيرة النبوية لابن هشام - صفحہ 484۔جنگ بدر مشورة الخباب علی رسول اللہ الی اسلام ابن حزام - مطبع دار الکتب العلمیة بیروت - طبع اول 2001ء) تو یہ ہے دشمن سے بھی سلوک کہ صحابہ کا خیال تھا کہ پانی سے دشمن کو محروم کرنے کے لئے قبضہ کیا جائے تا کہ وہ تنگ آ جائے۔یہ بھی جنگی چالوں میں سے چال ہے۔لیکن آپ نے اس ارادے سے یقین قبضہ نہیں کیا تھا کہ دشمن کو پانی سے محروم کر دیں گے۔آپ نے تو اس ارادے سے قبضہ کیا ہوگا کہ میں خدا تعالیٰ کی صفات کا پر تو ہوں ،ہمیں تو اس جگہ سے دشمن کو پانی لینے دوں گا لیکن اگر دشمن نے اس جگہ قبضہ کر لیا تو وہ ہمیں اس پانی سے محروم کرے گا جس کی وجہ سے تنگی ہوگی۔گویا یہ قبضہ اپنوں اور غیروں دونوں کے لئے ہمدردی کے جذبے کے تحت تھا۔کیا آج کل کے اس زمانے میں بھی، جب دنیا اپنے آپ کو Civilized کہتی ہے ، ایسی مثالیں مل سکتی ہیں؟ پس یہ اعلیٰ اخلاق اور نرمی اور ہمدردی اور رفق کی نصائح ہیں جو آپ نے اپنی اُمت کو دیں اور جس کے اعلیٰ ترین نمونے آپ نے خود قائم فرمائے۔اللہ تعالیٰ دنیا کو بھی انصاف کی آنکھ سے اس حسین چہرے کو اور اس حسین تعلیم کو دیکھنے کی توفیق دے۔اللہ تعالیٰ ہمارے عمل ، ہماری دعاؤں ، ہمارے درود کو بھی قبول کرتے ہوئے اس طرح برکت سے نوازے کہ ہم جلد تر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا روشن چہرہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ دنیا کے ہر خطے، ہر شہر اور ہر گلی میں چمکتا ہوا دیکھیں۔دنیا جلد تر آپ کے جھنڈے تلے آجائے اور آپ کا ہر دشمن جو انصاف کے تمام تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے آپ کی ذات مبارک پر حملے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے وہ ذلیل وخوار ہو جائے۔