خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 130
130 خطبه جمعه فرموده 21 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم بھیجا ہے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا اور ان کے بیان میں شوخ ، استہزاء اور بیبا کی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہیں کی اور ان کی باتوں کا جواب دیتے تھے۔ایک دفعہ باتیں کرنے کے موقع پر اس ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ عربی میں مجھ سے زیادہ فصیح کوئی نہیں لکھ سکتا کہ میں بہت اچھی عربی میں لکھ سکتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہاں میرا دعوئی ہے۔اس پر اس شخص نے بڑی شوخی اور استہزاء کے انداز میں کہا کہ بے ادبی معاف ! آپ کی زبان سے تو قاف بھی نہیں نکل سکتا۔کہتے ہیں میں اس مجلس میں موجود تھا۔اس کا بات کرنے کا جو طریقہ تھا وہ بہت دکھ دینے والا تھا اور ایسا تکلیف دہ تھا کہ ہم لوگ برداشت نہیں کر سکتے تھے مگر حضرت کے علم کی وجہ سے خاموش تھے۔وہاں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید بھی بیٹھے تھے ان سے ضبط نہ ہو سکا اور اس کو انہوں نے ڈانٹا اور کہا کہ حضرت اقدس کا ہی حوصلہ ہے جو تمہیں برداشت کیا ہوا ہے۔اس پر اس نے بھی کوئی جواب دیا اور یہاں تک حالت ہوگئی کہ لگتا تھا کہ دونوں گھتم گتھا ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو روک دیا کہ نہیں۔اس پر اس شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کر کے کہا کہ استہزاء اور گالیاں سننا انبیاء کا ورثہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہم تو ناراض نہیں ہوتے۔یہاں تو خاکساری ہے۔میں تو ناراض نہیں ہوتا۔میری طرف سے تو صرف خاکساری ہے۔اور جب اس نے قاف ادانہ کرنے کا حملہ کیا تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں لکھنو کا رہنے والا تو نہیں کہ میرا لہجہ لکھنوی ہو۔میں تو پنجابی ہوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی یہ اعتراض ہوا کہ لَا يَكَادُ یسین اور احادیث میں مہدی کی نسبت یہ آیا ہے کہ ان کی زبان میں لکنت ہوگی۔لا یگادُ یبین کا مطلب یہ ہے کہ یہ اظہار بیان کی طاقت نہیں رکھتے۔قرآن کریم میں آیا ہے حضرت موسی کو بھی کہا گیا۔ام أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هَذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَّلَا يَكَادُ يُبين (الزخرف : 53) کیا میں اس شخص کی جو کھول کر بیان بھی نہیں کر سکتا ، بیان کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا ، اس کی بات مان لوں؟ میں اچھا ہوں یا یہ اچھا ہے؟ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف سے جب یہ واقعہ پیش آیا تو حضرت مسیح موعود نے جو لوگ وہاں موجود تھے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میرے اصول کے موافق اگر کوئی مہمان آوے اور سب وشتم تک بھی نوبت پہنچ جائے۔یعنی گالیاں دینا بھی شروع کر دے تو اس کو گوارا کرنا چاہئے۔کیونکہ وہ مریدوں میں تو داخل نہیں ہے۔ہمارا کیا حق ہے کہ ہم اس سے وہ ادب اور ارادت چاہیں جو مریدوں سے چاہتے ہیں۔یہ بھی ہم ان کا احسان سمجھتے ہیں کہ نرمی سے باتیں کریں۔اگر وہ نرمی سے باتیں کر لیتے ہیں تو یہ بھی ان کا احسان ہے۔آپ نے فرمایا کہ پیغمبر خدا انے فرمایا ہے کہ زیارت کرنے والے کا تیرے پر حق ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر مہمان کو ذرا سا بھی رنج ہو تو وہ معصیت میں داخل ہے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ ٹھہریں۔یہ جو آپ کی ناراضگی ہوئی ہے، اس سے آپ دلبر داشتہ نہ ہوں۔چونکہ کلمہ کا اشتراک ہے۔کلمہ