خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 124

124 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم بعض لوگ بات بات پر غصہ میں آ جاتے ہیں۔مغلوب الغضب ہو کر دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اپنے آپ کو بھی مشکل میں ڈال لیتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے یہ نصیحت خاص طور پر یا درکھنے والی ہے۔ورنہ غصہ تو ہر ایک کو کچھ نہ کچھ آتا ہی ہے۔انسانی فطرت ہے۔آنحضرت ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ کو کبھی غصہ آیا تو اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کے تقدس کی خاطر۔اس کے علاوہ کبھی ذاتی معاملات میں آنحضرت ﷺ کو غصہ نہیں آیا۔پھر آپ نے ایک جگہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا جس کی روایت حضرت ابو ہریرہ سے ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میں اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع تعلق کرتے ہیں۔میں ان سے حسن سلوک سے پیش آتا ہوں اور وہ میرے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں۔میں ان کے ساتھ حلم کے ساتھ پیش آتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا اگر تو ایسا ہی کرتا ہے جیسا کہ تو نے کہا تو تو ان پر خاک ڈالتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے لئے ان کے خلاف اس وقت تک ایک مددگار رہے گا جب تک تو اس حالت پر قائم رہے گا۔(مسلم کتاب البر والصلۃ۔باب صلة الرحم وتحریم قطیع تھا حدیث نمبر 6420) بجائے اس کے کہ خود انسان بدلے لے کر شیطان کی گود میں چلا جائے اللہ تعالیٰ سے مدد لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت سہل اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے غصہ کو دبایا حالانکہ وہ اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ غصہ کو نافذ کر سکے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو مخلوقات کے سامنے بلائے گا۔( یہ دکھانے کے لئے کہ یہ شخص میرا قریب ترین ہے)۔ترندی کتاب البر والصلة باب فی تنظم الغيظ - حدیث نمبر 2021) حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں اگر تو انہیں کہے تو بخش دیا جائے گا اگر واقعی تیری قسمت میں بخشش ہوگی۔اور وہ کلمات یہ ہیں کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ۔لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ السَّمواتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمین کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو حلیم اور کریم ہے۔اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو بلندشان والا ہے اور عظمت والا ہے۔پاک ہے اللہ جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور عرش عظیم کا رب ہے۔ہرقسم کی تعریف کا مستحق اللہ ہی ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔( مسند احمد بن حنبل۔مسند علی بن ابی طالب۔جلد اول صفحہ 282 حدیث نمبر 712 عالم الكتب بيروت 1998ء) تو یہ دعائیں ایسی ہیں جو بخشش کا سامان کرتی ہیں۔