خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 123
123 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم نیک سلوک کرنے والے ہیں۔لوگوں میں سب سے زیادہ حلیم طبیعت کے مالک ہیں۔لوگوں میں سب سے زیادہ بہترین ہیں اور تیرے چا زاد ہیں۔ان کی عزت تیری عزت اور ان کا شرف تیرا شرف ہے اور ان کی بادشاہت تیری بادشاہت ہے۔تو اس پر صفوان نے کہا کہ میں اپنے دل میں ان کا خوف رکھتا ہوں۔مجھے ان سے خوف ہے۔عمیر نے تسلی دی کہ وہ بہت زیادہ حلیم اور کریم ہیں۔تم سوچ بھی نہیں سکتے۔خیر عمیر واپس لوٹے یہاں تک کہ رسول کریم ہے کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو صفوان نے کہا کہ عمیر کہتا ہے کہ آپ نے مجھے امان بخشی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہاں سچ کہتا ہے۔صفوان نے پھر عرض کی کہ مجھے دو ماہ کی مہلت دیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں اس بارے میں چار ماہ کی مہلت دی جاتی ہے۔(السيرة النبوية لابن ہشام۔ذکر حکیم الاصنام صفحہ 747 طبع اول 2001 دارالکتب العلمیہ بیروت۔لبنان) یعنی تمہیں مہلت ہے۔یہ نہ سمجھو کہ صرف اسلام قبول کرنے کی شرط پر تمہیں امان دی گئی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ یہ اُسوہ آنحضرت ہو نے ہمارے عمل کے لئے ہمیں ہر بارے میں قائم کر کے دکھایا۔اس بارے میں حلم اور برداشت اور مہربانی کی مزید چند احادیث ہیں کہ آپ اپنی امت سے کیا تو قعات رکھتے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔طاقتور پہلوان وہ شخص نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے۔اصل پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھتا ہے۔( بخاری کتاب الادب باب الحذر عن الغضب حدیث نمبر 6114) پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت سلیمان بن صرد بیان کرتے ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور دو آدمی قریب ہی جھگڑ رہے تھے ان میں سے ایک کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا اور اس کی رگیں پھولی ہوئی تھیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں ایسی بات جانتا ہوں کہ اگر وہ اس بات کو کہے تو اس کی یہ کیفیت جاتی رہے گی۔اور وہ بات یہ ہے کہ اعوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطن کہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں دھتکارے ہوئے شیطان سے۔تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔اس پر لوگوں نے اس جھگڑنے والے کو کہا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ تو شیطان سے اللہ کی پناہ میں آتو تیرا غصہ ٹھیک ہو جائے گا۔( بخاری کتاب بدء الخلق باب صفۃ ابلیس وجنوده حدیث نمبر 2 328) پھر حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم اللہ سے عرض کی کہ مجھے کوئی نصیحت کریں۔آپ نے فرمایا تو غصہ نہ کیا کر۔اس نے کئی مرتبہ پوچھا اور آپ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کر۔( بخاری کتاب الادب باب الحذر من الغضب حدیث 6116)