خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 122

122 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم کئی شکایات آتی ہیں۔ذراسی غلطی پر مالک اپنے ملازموں کے ساتھ انتہائی بدترین سلوک کرتے ہیں۔اسی طرح بعض خاوند اپنی بیویوں کے ساتھ بڑے ظالمانہ سلوک کرتے ہیں۔غلط طریق سے مارتے ہیں۔بعضوں کے اس حد تک کیس ہیں کہ ان کو ہسپتال جانا پڑتا ہے۔یورپ میں تو بعض دفعہ پھر پولیس بھی آ کر پکڑ لیتی ہے۔پھر مقدمات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔تو گھر والوں سے نرمی اور پیار اور حسن سلوک کرنا جو آپ کی سنت ہے وہ ہمارے لئے عمل کرنے کے لئے ہے۔بلکہ بعض دفعہ تو اس پہ یہ بھی زیادتی ہو جاتی ہے کہ صرف خاوند نہیں بلکہ اس کے رشتہ دار بھی اس جھگڑے میں شامل ہو جاتے ہیں۔نندیں اور ساسیں بھی مارنا شروع کر دیتی ہیں۔تو بہر حال اس بات سے احتیاط کرنی چاہئے اور ہمیشہ غصہ کو دبانے کے لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر آدمی غصہ میں کھڑا ہے تو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہے تو لیٹ جائے۔استغفار پڑھے۔لاحول پڑھے۔ٹھنڈا پانی ڈالے۔وضو کرے تو یہ ساری نشانیاں اس لئے بتائی ہیں کہ ان پر عمل کرو۔پھر غیروں کی زیادتیوں سے کس طرح آپ نے درگزر کیا۔کس طرح آپ ان سے حسن سلوک کرتے تھے۔حلم کی آپ نے کیا مثال قائم کی۔جب آپ فتحیاب جرنیل ہوئے تو ایک نئی شان سے یہ واقعات نظر آتے ہیں۔تو فتح مکہ کے موقع پر رسول کریم ﷺ نے خانہ کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا: اے قریش کے گروہ ! تم مجھے سے کس قسم کے سلوک کی امید رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: خیر کی۔آپ ہمارے معزز بھائی ہیں اور ایک معزز بھائی کے بیٹے ہیں۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔اِذْهَبُوا فَانْتُمُ الطَّلَقَاءُ۔کہ جاؤ تم آزاد ہو۔( السيرة النبوية لابن ہشام۔صفحہ 744 دخول الرسول له الحرم مطبع دار الکتب العلمیہ بیروت طبع اول 2001) فتح مکہ کے موقعہ پر ہی پھر ایک واقعہ کا ذکر ہے ایک معاند اسلام صفوان بن امیہ ( مکہ سے بھاگ کر ) جدہ کی طرف چلے گئے تا کہ وہاں سے پھر یمن کی طرف چلے جائیں۔تو عمیر بن وهب رضی اللہ عنہ نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! صفوان بن امیہ اپنی قوم کا سردار ہے لیکن آپ سے خوفزدہ ہو کر وہ یہاں سے بھاگ گیا ہے اور اپنے آپ کو سمندر میں ڈال رہا ہے آپ سے امان بخشیں۔اس پر رسول کریم میں اللہ نے فرمایا کہ اسے امان دی جاتی ہے۔تو عمیر بن وھب رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسی نشانی عطا فرمائیں جسے دیکھ کر وہ آپ کی امان کو پہچان لے۔تو رسول کریم ﷺ نے وہ عمامہ اس کو دیا جومکہ میں داخل ہوتے وقت آپ نے سر پر پہن رکھا تھا۔یہ عمامہ ساتھ لے کر صفوان کی طرف روانہ ہوئے وہ انہیں راستے میں ملے۔اس وقت صفوان سفر اختیار کرنے اور جہاز پر چڑھنے والے تھے۔انہوں نے اس سے کہا کہ خدا کا خوف کر اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈال۔میں رسول کریم ﷺ کی امان کو لے کر آیا ہوں۔صفوان نے کہا۔تیرا بُر اہو، میرے پاس سے دُور ہو اور میرے سے بات نہ کرو۔اس پر انہوں نے کہا کہ تمہیں پتہ نہیں کہ آنحضرت سب لوگوں سے افضل ہیں اور سب لوگوں سے زیادہ