خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 97

97 خطبه جمعه فرموده 29 فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم اس میں بیان ہے۔پس اس میں ایک یہ بھی بات ہے کہ اگر تمہیں سمجھ نہیں آتی تو اعتراض کرنے کی بجائے اپنی عقلوں پر روڈ ، نہ کہ قرآن پر اعتراض کرو۔قرآن کی تعلیم تو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لیکن اس کو سمجھنے کے لئے پاک دل ہونا ضروری ہے اور ایک مزکی کی ضرورت ہے۔آج جماعت احمدیہ ہے جو اس کا فہم و ادراک اس مزگی سے حاصل کر کے آگے پہنچاتی ہے۔آؤ اس سے یہ فہم و ادراک حاصل کرو۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل دے اور اس انجام سے محفوظ رکھے جس کی خدا تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے۔آجکل بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔امت مسلمہ کے لئے بھی دعائیں کریں کہ اگر یہ اپنی رنجشیں چھوڑ کر ایک بڑے مقصد کے حصول کے لئے ایک ہو جائیں، اللہ تعالیٰ کے اشارے کو سمجھیں تو بہت سارے شر سے محفوظ رہیں گے۔یہی چیز ہے جو ان حملہ آوروں کے حملوں سے ان کو محفوظ رکھے گی۔اللہ تعالیٰ انہیں توفیق دے۔ایک افسوسناک خبر کا بھی میں ذکر کرنا چاہتا ہوں مکرم بشارت احمد صاحب مغل جو کراچی کے رہنے والے تھے ان کو 24 فروری کو کچھ افراد نے گولی مار کر شہید کر دیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔پچاس سال ان کی عمر تھی۔صبح چھ بجے یہ نماز فجر کے لئے جا رہے تھے مسجد نہیں پہنچے تو تھوڑی دیر کے بعد ان کے بیٹے نے آ کر بتایا کہ میرے والد کوکسی نے گولی مار دی ہے۔وہاں جو سٹرک کی صفائی کرنے والے تھے اس نے بتایا کہ موٹر سائیکل پہ کچھ لوگ آئے تھے اور فائر کر کے ، ان کو مار کر موٹر سائیکل پر بیٹھ کر دوڑ گئے۔چار پانچ گولیاں ان کو لگیں۔ایک گولی گردن کے آر پار گزرگئی، دوسری چھاتی میں دل کے پاس لگی۔ہسپتال لے جایا گیا لیکن بہر حال جانب نہیں ہو سکے۔مرحوم نے 1988ء میں اپنے خاندان، اپنی فیملی ( بیوی بچوں) سمیت بیعت کی تھی۔وہیں کراچی میں کام کیا کرتے تھے۔بڑے نڈر اور دلیر آدمی تھے۔لوگوں کی ہر وقت بڑی مدد کرتے تھے۔نمازوں کے بڑے پابند تھے۔نمازوں پر لوگوں کو لے کر جایا کرتے تھے۔نماز کے لئے صبح فجر کی نماز پر خاص طور پر جاتے وقت ہر ایک کا دروازہ کھٹکھٹایا کرتے تھے۔انہوں نے بڑی محنت سے وہاں منظور کالونی میں ایک خوبصورت مسجد بھی بنوائی ہے۔ویسے یہ رہنے والے لاٹھیا نوالہ فیصل آباد کے تھے۔لیکن آجکل کراچی میں آباد تھے۔موصی تھے۔جنازہ ربوہ میں ہوا ہے۔وہیں تدفین ہوئی ہے۔ان کی اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور پانچ بیٹے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے اور ان کے بیوی بچوں کوصبر کی توفیق دے اور ان کے نیک نمونے قائم رکھنے کی توفیق دے۔دشمنوں کو اپنی پکڑ میں لے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ ثانیہ کے درمیان میں فرمایا: ایک بات رہ گئی تھی۔ابھی نماز جمعہ کے بعد انشاء اللہ میں ان شہید کی نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔الفضل انٹرنیشنل جلد نمبر 15 شمارہ نمبر 12 مورخہ 21 مارچ تا 27 مارچ 2008ءصفحہ 5 تا 8 )